آبنائے تائیوان میں صورتِ حال کو تبدیل کرنے کی کوشش اپنے آپ کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے، چینی وزارت خا رجہ

بیجنگ (کنٹری نیوز)چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے کہا ہے کہ تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی، حقائق سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، اور درست اور غلط کوتوڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جاسکتا۔بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
چاؤ لی جیان نے منعقدہ پریس کانفرنس میں نشاندہی کی کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے، تائیوان چین کی سرزمین کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور عوامی جمہوریہ چین کی حکومت واحد قانونی حکومت ہے جو پورے چین کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ بین الاقوامی برادری کا عمومی اتفاق رائے اور بین الاقوامی تعلقات کا تسلیم شدہ اصول ہے۔
چاولی جیان کا کہناتھا کہ امریکہ نے چین-امریکہ تین مشترکہ اعلامیوں میں تائیوان کے معاملے اور ایک چین کے اصول کی پاسداری کا عہد کیا ہے۔ اب امریکہ کی طرف سے “امریکہ اور تائیوان تعلقات کے حقائق کی فہرست” میں کی جانے والی موجودہ ترمیم ایک چین کے اصول کو غیر موثر اور کھوکھلا کرنے کا ایک اوچھا اقدام ہے۔ تائیوان کے مسئلے پر اس قسم کے سیاسی جوڑ توڑ اور آبنائے تائیوان میں صورتِ حال کو تبدیل کرنے کی کوشش یقیناً اپنے آپ کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے ۔ امریکہ کو ایک چین کے اصول ، چین- امریکہ کے درمیان طے پانے والے تین مشترکہ اعلامیوں اور تائیوان کے معاملے پر چین کے ساتھ کیے گئے سیاسی وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے نیز صدر بائیڈن کے اس بیان پر عمل درآمد کرنا چاہیے کہ امریکہ ‘تائیوان کی علیحدگی’ کی حمایت نہیں کرتاہے۔ امریکہ کو تائیوان سے متعلقہ مسائل کو سیاسی جوڑ توڑ اور ‘چین کو کنٹرول کرنے کے لیے” تائیوان کو استعمال کرنے کا سلسلہ ختم کر دینا چاہیے ۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر “امریکہ -تائیوان تعلقات کے حقائق کی فہرست” میں کی جانے والی حالیہ ترمیم کے حوالے سے کیا ۔