اقوام متحدہ کی کمیٹی کے مباحثے نے امریکی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی، چین

بیجنگ (کنٹری نیوز)چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے منعقدہ پریس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی طرف سے امریکہ میں نسل پرستی پر کی جانے والی تنقید کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہر طرح کے نسلی امتیاز کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن کا ایک فریق ہے، وہ دوسرے ممالک میں نسلی امتیاز کے حوالے سے من گھڑت باتیں پھیلاتا آ رہا ہے ، اسے وہ اپنی تسلط پسندی اور سیاسی جوڑ توڑ کےطور پر استعمال کرتارہتا ہے، لیکن امریکہ نے کبھی بھی اپنے یہاں موجود نسل پرستی کے مسئلے کا ذکر نہیں کیا ۔اس بار، نسلی امتیاز کے خاتمے پر اقوام متحدہ کی کمیٹی کے مباحثے نے بلاشبہ امریکی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، نسلی امتیاز کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کمیٹی نے حال ہی میں ہر قسم کے نسلی امتیاز کے خاتمے کےبین الاقوامی کنونشن کے تحت اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ امریکہ اس پر کتنا عمل درآمد کر رہا ہے ۔ متعلقہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے تفصیلی غور و فکر کے بعد امریکہ میں نسلی امتیاز پر کڑی تنقید کی ہے۔
وانگ وین بین نے نشاندہی کی کہ امریکہ اپنے آپ کو انسانی حقوق کا “مبلغ” کہلانے پرفخر کرتا ہے اور دوسرے ممالک کوکمتر سمجھتا ہے ،لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ وہ طویل عرصے سے عالمی برادری کی نظروں میں انسانی حقوق کے ایک “نالائق طالب علم” کے طور پر جانا جاتا ہے۔