امریکی عوام افراط زر سے پریشان

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی کے مشترکہ سروے کے مطابق،اس وقت 94فی صد امریکی افراطِ زر کے باعث پریشانی کا شکار ہیں۔پیر کے روز میڈ یا رپورٹس کے مطا بق
24 سے 28 اپریل تک کیے گئے سروے کے مطابق سروے میں شامل94 فیصد افرادقیمتوں میں اضافے سے پریشان تھے جن میں سے 44 فیصد بے حد مایوس تھے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مسلسل افراط زر نے امریکیوں کے معاشی حالات کو متاثر کیا ہے اور وسط مدتی انتخابات میں یہ مسئلہ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ افراطِ زر کی دو وجوہات ہیں، ایک وجہ ،سپلائی چین میں خلل اور کووڈ-۱۹ کی وبا کی وجہ سے مزدوروں کی کمی جب کہ دوسری وجہ توانائی کی عالمی سپلائی پر روس اور یوکرین کی صورتحال کا اثر ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بائیڈن کے لیے پسندیدگی کی شرح کئی ماہ سے مایوس کن حد تک کم ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی کی جانب سے شروع کیے گئے ایک نئے سروے میں بائیڈن کی حمایت کی شرح صرف 42٪ ہے، جن میں سے 28٪ امریکیوں نے بائیڈن کی افراط زر سے نمٹنے کو درست قرار دیا ہے تاہم مجموعی طورپر 68٪ نے اسے نامنظور کیا ہے۔