امن اور ترقی کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے، چینی مندوب

اقوام متحدہ (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے چانگ جون نے کہا کہ اس وقت امن اور ترقی کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے، غیر یقینی اور غیر مستحکم عوامل کے باعث تمام ممالک بالخصوص چھوٹے ممالک بہت زیادہ دباؤ میں ہیں۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
اقوام متحدہ نے “چھوٹے ممالک ، کثیرالجہتی اور بین الاقوامی قانون” کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس کا انعقاد کیا۔
چانگ جون نے نشاندہی کی کہ چین کے صدر شی جن بھنگ نے حال ہی میں گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو پیش کیا ہے، جس میں قیام امن اور سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے کا حل شامل ہے۔ یہ انیشیٹو امن، تعاون اور ترقی کے لیے بین الاقوامی برادری کی مشترکہ خواہش کا مظہر ہے۔
چانگ جون نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ چیلنجوں کے جواب میں ہمیں ہمیشہ حقیقی کثیرالجہتی پر عمل کرنا چاہیے۔ دنیا میں صرف ایک نظام ہے یعنی اقوام متحدہ کی بنیاد پر بین الاقوامی نظام ، اور صرف ایک ہی آرڈر ہےیعنی عالمی قانون پر مبنی بین الاقوامی آرڈر ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ چیلنجوں کے تناظر میں ہمیں ہمیشہ بڑے اور چھوٹے ممالک کے درمیان مساوات کے اصول پر کاربند رہنا چاہیے۔ تمام ممالک، بڑے ہوں یا چھوٹے، مضبوط ہوں یا کمزور، امیر ہوں یا غریب، بین الاقوامی برادری کے مساوی رکن ہیں۔ تاہم دنیا میں، بالادستی اور طاقت کی سیاست ہمیشہ سے موجود رہی ہے، اور بین الاقوامی جمہوری تعلقات کو ابھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی سفارت کاری ہمیشہ برابری پر کاربند رہی ہے۔ چین چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کا مخلص دوست ہے اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔ چھوٹے ممالک کی اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں اکثریت ہے۔ کثیرالجہت طرز حکمرانی کا نظام منصفانہ ہے یا نہیں، چھوٹے ممالک ایسا کہنے میں حق بجانب ہیں۔ اقوام متحدہ کے امور میں چھوٹے ممالک کی آواز پر پوری طرح توجہ دی جانی چاہیے اور چھوٹے ممالک کے مطالبات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔