امن کے دشمن عبرت ناک انجام سے دوچار ہوں گے، چینی میڈ یا

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چینی مید یا نے ایک تبصرہ میں کہا ہے کہ 26 اپریل کے روز پاکستان میں کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کی شٹل بس یونیورسٹی کیمپس میں دہشت گردانہ حملے کا شکار ہوئی۔ اس خودکش حملے میں تین چینی اساتذہ ہلاک، ایک چینی استاد زخمی، اور متعدد پاکستانی اہلکار زخمی ہوئے۔ اس افسوسناک واقعے نے ہر آنکھ کو اشک بار اور ہر دل کو سوگوار کردیا۔
اس المناک واقعے میں جام شہادت نوش کرنے والے یہ چینی اساتذہ اپنے رشتہ داروں کو الوداع کہہ کر پاکستان سے محبت اور پاکستانی عوام سے دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پاکستان گئے تھے لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ محبت کا پیغام لے کر آنے والوں پر دہشت گرد یوں حملہ آور ہوں گے۔
اس واقعے کے بعد چین، پاکستان اور اقوام متحدہ نے یک زبان ہو کر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی۔ اس رات، پاکستان کے نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف تعزیت کے لیے پاکستان میں چینی سفارت خانے گئے اور سفارت خانے کے لیٹر ہیڈ پر چینی قومی نشان کے نیچے درج ذیل الفاظ لکھے: ہمیں اپنے “آہنی بھائیوں” پر ہونے والے اس وحشیانہ حملے پر گہرا صدمہ اور دکھ پہنچا ہے۔ تمام پاکستانی قیمتی جانوں کے نقصان پر سوگوار ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں۔ہم پاکستانی سرزمین سے تمام عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک قصور واروں کو پکڑ کر عبرتناک سزا نہیں دے دی جاتی۔
اس حملے کی ذمہ داری پاکستان میں سرگرم ایک دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے ۔ “بلوچ لبریشن آرمی” کی طرف سے چینیوں کے خلاف یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ 23 نومبر 2018 کو بھی کراچی میں “بلوچ لبریشن آرمی” کے تین دہشت گردوں نے کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ کیا۔ 11 مئی 2019 کو بلوچستان کے شہر گوادر میں واقع پرل انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر دہشت گردانہ حملہ ہوا، واقعے کے وقت ہوٹل میں کم از کم 70 افراد موجود تھے جن میں تقریباً 40 چینی شہری بھی شامل تھے۔ 20 اگست 2021 کو گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے منصوبے میں چینی اہلکاروں کو لے جانے والے ایک قافلے پر خودکش بم حملہ کیا گیا جس کے بعد “بلوچ لبریشن آرمی” نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
میں نے پاکستان میں تقریباً 7 سال تعلیم حاصل کی ہے اور کام کیا ہے، اور میں حقیقی معنوں میں پاکستانی حکومتی اہلکاروں سے لے کر عام شہریوں تک چینی باشندوں کے ساتھ دوستی کو محسوس کرتی ہوں۔ پاکستانیوں کی اکثریت کو چین اور پاکستان کی برادرانہ دوستی پر فخر ہے جو کہ “پہاڑ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی” ہے۔ اس وقت چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معیشت، ثقافت اور طبی نگہداشت جیسے مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا ہو رہا ہے۔ یہ تعلقات دونوں ملکوں کے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ اسی لیے ان تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لئے دہشت گرد حملے کئے جاتے ہیں۔ دہشت گرد چین پاک تعلقات اور چین پاک اقتصادی راہداری کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
پاکستانی حکام اور میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم “بلوچ لبریشن آرمی” کو غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے، جس سے ہمیں پاکستان کی صورت حال کی پیچیدگی اور انسداد دہشت گردی میں درپیش مشکلات بھی نظر آتی ہیں۔ پاکستانی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مسلسل کوششیں کر تی رہی ہے اور اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی گئی ہے ۔ حکومت پاکستان نے پاکستان میں چینی کمپنیوں اور چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں ۔ لیکن جب تک دہشت گردی موجود ہے، ہمیں دہشت گردی سے آخری حد تک لڑنا چاہیے، چاہے یہ کام کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ اس حملے کے پیچھے کوئی بھی قوت کارفرما ہو، اس کے منصوبہ سازوں کو ہر حال میں کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے۔پاکستان میں چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری اپنے بیان میں مذکورہ حملے کی مکمل تحقیقات اور مجرموں کو سخت سزا دینے کی درخواست کی گئی ہے۔جبکہ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چینی شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، واقعے کے پیچھے جو بھی شخص ہے اسے اس کی قیمت چکانی ہوگی۔