انصار برنی انسان دوست امدادی سرگرمیوں کا ایک روشن ستارہ ہیں، چینی میڈ یا

اسلام آ باد (کنٹری نیوز) چینی میڈ یا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ انصار برنی پاکستان میں انسان دوست امدادی سرگرمیوں کا ایک روشن ستارہ ہیں ، جو دنیا بھر کے تنازعات سے متاثرہ اور پسماندہ ممالک میں قیدیوں، لاپتہ اور اغوا شدہ اور تنازعات سے متاثرہ افراد کو قانونی امداد فراہم کرتے ہیں۔ ان کی استقامت اور محنت کی بدولت اب تک پاکستان اور دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر قید ایک لاکھ سے زائد قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کوششوں سے 20 ہزار سے زائد لاپتہ اور مغوی بچوں کو بازیاب کرایا جا چکا ہے۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 2008 میں، انسان دوست امدادی سرگرمیوں کے دوران جاں بحق ہونے والے عملے کی یاد میں، ہر سال 19 اگست کو انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے طور پر منانے کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی۔ اس عالمی دن کا مقصد انسان دوست امدادی سرگرمیوں اور متعلقہ بین الاقوامی تعاون کے بارے میں عوامی آگاہی کو بڑھانا ، انسان دوست جذبوں کی اہمیت کا فروغ،اور تمام انسان دوست لوگوں اور انسانی ہمدردی کے کاموں میں اپنی جانیں نچھاور کرنے والے بے مثال لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔
بلاشبہ زندگی آندھی اور بارش سے بھری ہوئی ہے، اور مختلف قدرتی اور انسان ساختہ آفات اس کرہ ارض پر انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لیے چلی آ رہی ہیں، ایسے میں بچاؤ کے تقاضوں اور حلقوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ خوش قسمتی سے، انسان دوستی کے جذبے سے سرشار ایسے بہت سے لوگ ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں جو ہر قسم کے خطرات مول لے کر دنیا کے پُرخطر اور غریب ترین مقامات پر بے بس لوگوں کی مدد کے لیے جاتے ہیں۔ ان بہادر لوگوں کو نہ صرف مختلف نوعیت کے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ تنازعات سے دوچار علاقوں سے دھمکیوں اور یہاں تک کہ اپنی جانوں کو لاحق خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، جس چیز نے ہمیں متاثر کیا وہ یہ ہے کہ ہجوم میں ہمیشہ بے شمار ایسے بے لوث رجعت پسند لوگ ہوتے ہیں، جو اپنے آئیڈیل اور انسانیت کے لیے گرمجوش جذبات رکھتے ہوئے آگ اور پانی کی آزمائشوں سے گزرنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے اپنی آفیشل ویب سائٹ “یو این نیوز” پر لکھا، “عام ہیروز زیادہ تر خاموش اور گمنام ہوتے ہیں۔” “وہ اپنے عملی فعل اور کاوشوں سے ہماری چیلنجنگ دنیا کو محفوظ اور بہتر گھر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔” ہاں، ہر مرتبہ بحران کے وقت، یہی بہادر لوگ ہمیشہ موجود ہوتے ہیں جو تمام مشکلات اور خطرات کے باوجود ثابت قدمی سے آگے بڑھتے رہتے ہیں ۔
سسٹر زاو چین کے شہر ووہان میں ایک عوامی بیت الخلاء کی صفائی پر مامور ہیں۔ 2020 کے آغاز میں، ووہان کووڈ۔19 کی لپیٹ میں آ گیا۔ سسٹر زاو اُن اولین لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے عارضی طور پر قائم کئے جانے والے کیبین ہسپتال میں حفظان صحت اور صفائی کے کاموں میں حصہ لینے کے لیے قدم اٹھایا۔ وہ ہر روز حفاظتی لباس، ماسک، چشمے، فیس شیلڈ اور دیگر حفاظتی سامان میں ملبوس ہو کر مسلسل 4تا5 گھنٹے کام کرتی رہیں۔ سسٹر زاو کو یہ ڈر بھی تھا کہ ان کے گھر والے اُن کے اس کام سے پریشان ہوں گے لہذا انہوں نے اپنے گھر والوں کو بتانے کی ہمت نہیں کی۔ کامیابی سے اپنا کام مکمل کرنے اور قرنطینہ میں رہنے بعد انہوں نے گھر واپس آ کر اپنے بیٹے کو انتہائی فخر سے بتایا، “میں نے سب سے پہلے یہ فریضہ ادا کرنے کی حامی بھری تھی!” انسداد وبا کے خلاف جنگ میں اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، “میں بحفاظت گھر واپس پہنچنے پر بہت خوش ہوں۔کیبین ہسپتال میں کام کرنے والا ہر ایک بہادر ہے۔، گھر واپس جانا ہماری فتح ہے!”

شاطی محمدعلی ( پچھلی قطار میں موجود نوجوان) غزہ کے ایک مہاجر ہیں۔وہ اس وقت یونان کے ایک مہاجر کیمپ میں کووڈ۔19 کی وبا سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے میری مدد کی تھی، اب دوسروں کی مدد کرنے کی میری باری ہے۔
یو این نیوز نے لکھا: “ہماری حفاظت کرنے والے ہیروز کے پاس کوئی سپر پاور نہیں ہوتی۔ زیادہ تر وقت وہ ماسک اور حفاظتی سوٹ پہنتے ہیں اور ہم سے مختلف نظر نہیں آتے۔ اگر ان میں کوئی خاص بات ہے، تو وہ یہ ہے کہ وہ انتہائی فاصلے سے مدد مانگنے اور رونے کی آواز سن سکتے ہیں۔ ‘سپرمین’ کی طرح فاصلے سے مدد کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔
درخشاں ستاروں والے آسمان پر ، اصل ہیروز کون ہیں
عام لوگ مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں
مجھے امید ہے کہ کوئی نفرت اور کوئی درد نہیں ہوگا
دنیا میں ہر جگہ محبت کی روشنی نظر آئے گی