ایشیائی ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے چین کے اقدامات

بیجنگ (کنٹری نیوز)چینی میڈ یا کے مطا بق12 اگست کو 11 واں ” ہاتھیوں کا عالمی دن” منایا گیا ہے۔ چین کے صوبہ یون نان کے شی شوایانگ بان نا علاقے میں” ہاتھیوں کے گھر کی حفاظت ، انسان اور ہاتھیوں کے درمیان ہم آہنگی ” کے موضوع پر ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئ ۔ 16 ایشیائی ہاتھیوں نے اطمینان سے ان کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی شاندار ضیافت میں شرکت کی، پھل اور مکئی جیسے کھانوں سے لطف اندوز ہوئے، جس نے لاتعداد سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے ۔پیر کے روز ایک رپورٹ کے مطا بق
ایشیائی ہاتھیوں کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے خطرے سے دوچار نسل کی فہرست میں درج کیا ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں 26ملین سال پہلے ہاتھیوں کی 400 سے زیادہ اقسام موجود تھیں تاہم آج صرف 3 انواع باقی رہ گئی ہیں، اور ایشیائی ہاتھی ان میں سے ایک ہیں۔ انسانوں کی ہاتھی دانت کی لین دین ، ہاتھیوں کے رہائشی علاقوں میں تیزی سے کمی اور انسان ہاتھی تنازعات میں شدت کی وجہ سے ایشیائی ہاتھیوں کی تعداد میں بھی تیزی سے کمی آئی ہے۔ جنگلی ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے، چین نے 2016 میں ہاتھی دانت کی تجارت پر پابندی کا نوٹس جاری کیا اور انسان ہاتھی تنازع کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات اٹھاتے ہوئے بھر پور کوششیں کیں ۔
انسان ہاتھی تنازع کو کم کرنے کے لیے چین میں ایشیائی ہاتھیوں کے اہم مسکن صوبہ یون نان میں ایشیائی ہاتھیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے افرادی قوت، انفراریڈ کیمروں اور ڈرونز وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے اور ان کی معلومات مختلف موبائل ایپلیکیشنز ، سوشل میڈیا اور براڈکاسٹ سمیت دیگر طریقوں سے بروقت لوگوں کو فراہم کی جاتی ہیں ۔ تاکہ انسان اور ہاتھیوں کےٹکراؤ کے خطرے کو کم کرتے ہوئے باہمی تنازعات کے خطرات سے بچا جا سکے ۔
ہاتھیوں کے دیہات میں داخلے سے بچنے کے لیے صوبہ یون نان کے جینگ ہونگ شہر کے اضلاع میں موجود ایشیائی ہاتھیوں کے رہائشی علاقے میں ایک فوڈ سورس بیس بنایا گیا جہاں وہ پودے جنہیں ہاتھی کھانا پسند کرتے ہیں ایک بڑےرقبے پر لگائے گئے ہیں۔تاکہ ہاتھیوں کی اپنی مخصوص “کینٹین” موجود ہونے کی وجہ سے ان کا گاؤں میں داخلے کا جواز ختم ہو جائے اور وہ فصلوں کو کم نقصان پہنچائیں ۔
ایشیائی ہاتھیوں کے بہتر تحفظ کے لیے، چین موجودہ نیچر ریزرو اور ان علاقوں جہاں انسان اور ہاتھی ایک ساتھ رہتے ہیں ، پر مبنی ایک ایشین ایلیفنٹ نیشنل پارک بنا رہا ہے ۔منصوبہ بندی کے مطابق نیشنل پارک میں، لوگوں اور ہاتھیوں کو مکمل طور پر الگ تھلگ نہیں رکھا جائے گا۔ ہاتھیوں کی نگرانی اور مقامی باشندوں کی ابتدائی وارننگ کے ذریعے، لوگ ایشیائی ہاتھیوں کے تحفظ میں حصہ لیں گے، تاکہ انسان اور ہاتھیوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کا حصول ہو سکے ۔
بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں چین نے بھی ایشیائی ہاتھیوں کے تحفظ کو مکمل طور پر یقینی بنایا ہے۔ مثال کے طور پر، چین-لاؤس ریلوے کو بچھاتے ہوئے ایشیائی ہاتھیوں کی نقل و حرکت کے مرکزی علاقے میں تعمیرات سے اجتناب کیا گیا ہے اور ان علاقوں میں شاہرات اور ریل وے کی تعمیر ٹنلز اور پلوں کی شکل میں کی گئی ہے ، تاکہ انسانی سرگرمیوں کی مداخلت کے بغیر ہاتھیوں کے ہموار سفر کو یقینی بنایا جا سکے ۔
ایشیائی ہاتھی گرم مرطوب آب و ہوا کے برساتی جنگلات میں رہنے والے ایک اہم جاندار ہیں، جو بیجوں کی قدرتی تقسیم میں ایک معاون کردار ادا کرتے ہیں ۔ پودے کھانے کے بعد ہاتھی کے خارج کئے گئے فضلے کے ساتھ مواد میں پودوں کے بیج بھی موجود ہوتے ہیں ۔ جو نئے پودوں کے اُگنے کا موجب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہاتھی مردہ اور بوسیدہ درختوں کو گرا دیتے ہیں ، یوں زمین کی سطح پر اُگنے والے پودے سورج کی زیادہ روشنی کو جذب کر تے ہوئے بہتر اور سازگار ماحول میں پروان چڑھ سکتے ہیں ۔ اس طرح جنگل میں انواع کے تنوع کو تقویت ملتی ہے۔ لہذا ایشیائی ہاتھیوں کی حفاظت قدرتی ماحولیاتی نظام کی حفاظت ہے۔
ایشیائی ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے چینی حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے گزشتہ 30 سالوں میں چین میں جنگلی ایشیائی ہاتھیوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے اور اب وہاں 360 کے قریب ہاتھی موجود ہیں جب کہ دنیا میں ایشیائی ہاتھیوں کی تعداد میں کمی ہوتی جا رہی ہے ۔یہ ایشیائی ہاتھیوں اور دیگر خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں چین کی بھر پور کوششوں اور قابل ذکر کامیابیوں کو ظاہر کرتا ہے، اور انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی کے راستے میں چینی دانشمندی کا بھی اظہار کرتا ہے۔