باہمی مفادات کے حصول کے لیے”چائنا ایکسپریس” پر سفر کریں ۔

بیجنگ (کنٹری نیوز)21 اگست “دی بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو کے لیے اچھا دن ہے۔منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اسی دن، چین-یورپ مال بردار ٹرین(شی آن-ہیمبرگ) شی آن انٹرنیشنل پورٹ اسٹیشن سے روانہ ہوئی۔ رواں سال چین-یورپ مال بردارریل گاڑیوں کے سلسلے کی یہ 10,000 ویں مال بردار ٹرین ہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں 10 دن پہلے ہی ٹرینز کی تعداد 10,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
اسی دن، سرکاری طور پر پہلی مرتبہ چین کی تیز رفتار ٹرین کی برآمد کا عمل بھی شروع ہوا —جکارتہ-بانڈونگ ہائی اسپیڈ ریلوے کے لیے تیز رفتار EMUs کا 1 سیٹ اور جامع معائنہ ٹرینز کا ایک گروپ چھنگ ڈاؤ پورٹ سے بھیجا گیا ہے۔ چین کی تیز رفتار ریل “باہر بھیجنے ” کے ایک اہم لمحے کا آغازہوا ہے۔ دونوں واقعات کا بنیادی لفظ ایک ہی ہے، “ریلوے” ۔ حالیہ برسوں میں، چین میں ریلوے کے تعاون کے بہت سے منصوبے شروع ہوئےہیں، جو مقامی اقتصادی اور سماجی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے “سنہری کنجی” بن گئے ہیں۔
آج 140 سے زائد ممالک نے چین کے ساتھ دی بیلٹ اینڈ روڈ کی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔ 2021 میں، چین اور “دی بیلٹ اینڈ روڈ” سے وابستہ ممالک کے درمیان تجارتی حجم 11.6 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا ہےاور وابستہ ممالک میں براہ راست سرمایہ کاری 138.45 بلین یوآن تک پہنچ گئی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑے عوامی فلاحی منصوبے کی حیثیت سے “دی بیلٹ اینڈ روڈ” کے ذریعے ملنے والے فوائد کو دیکھا جاسکتا ہے، محسوس کیا جاسکتا ہےاور لوگوں کے دل جیتے جاسکتے ہیں۔
یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں چین – یورپ مال بردار ٹرینز کامیابی کے ساتھ چلیں گی؛ عوامی زندگی کے منصوبے جو ایک ایک کر کے جڑ پکڑیں ​​گے، مشترکہ ترقی کی مزید کہانیاں رقم کریں گے۔