بنی نوع انسان کو خوراک کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ورلڈ فوڈ پروگرام

اقوام متحدہ (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ بنی نوع انسان کو “دوسری جنگ عظیم کے بعد خوراک کے سب سے بڑے بحران” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خوراک کے بحران کے تناظر میں، امریکہ ہمیشہ کی طرح دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔ بائیڈن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ روس کا یوکرین پر حملہ خوراک کی کمی کا باعث ہے۔ اس کے ساتھ ہی اہم امریکی میڈیا نے بھی بڑے پیمانے پر یہ دلیل دینا شروع کر دی کہ “پوٹن کی شروع کردہ جنگ عالمی خوراک کے بحران کا باعث بنی ہے “۔ دنیا میں سپرپاور کہلانے والے ملک امریکہ کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آنے سے “خوراک کا بحران” فوری طور پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
یہ سچ ہے کہ روس یوکرین تنازعہ نے ہمیں دکھایا ہے کہ عالمگیریت کے دور میں علاقائی تنازعات کا اثر پوری دنیا پر پڑا ہے۔روس اور یوکرین دنیا کے سب سے بڑے اناج برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہیں، اس تنازعہ نے خوراک کی عالمی فراہمی کو غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، لیکن کیا خوراک کی موجودہ بلند قیمتوں اور بحران میں سب سے اہم عنصر یہی ہے؟ یہاں ہم کچھ اشاریوں پر نگاہ دوڑائیں تو دنیا کی سب سے بڑی ویٹ فیوچر مارکیٹ، امریکہ کی شکاگو اسٹاک ایکسچینج میں گندم کی فیوچر پرائس سات تا آٹھ مارچ کو بہت تیزی سے بڑھتی ہے، یہ دن شائد بہت سے لوگوں کو یاد ہو کہ 8 مارچ کو بائیڈن نے روسی تیل اور گیس پر پابندی کا اعلان کیا، اُس دن یورپ میں گیس کی قیمت 20 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ قدرتی گیس اور گندم کی قیمتیں بیک وقت بڑھنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ زرعی پیداوار کے لیے نائٹروجن کھاد کا بنیادی خام مال قدرتی گیس سے آتا ہے۔ لہٰذا، روس کے خلاف امریکی پابندیوں نے بلاشبہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، لہذا یہاں امریکی کردار پر سوالات تو لازمی اٹھتے ہیں ۔
جیسا کہ گزشتہ چند سالوں میں خوراک کی عالمی قیمتوں کے ڈیٹا سے دیکھا جا سکتا ہےکہ خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ 2020 میں شروع ہوا تھا ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ نوول کورونا وائرس کی وبا نے خوراک کی پیداوار اور فراہمی پر اثر ڈالا ہے، تاہم ایک اور پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ توانائی کی طرح، اناج کا بھی فیوچر مارکیٹ میں لین دین جاری ہے، اور تمام اشیاء کی قیمتیں امریکی ڈالر میں طے ہوتی ہیں، اس لیے اناج بھی براہ راست امریکی ڈالر سے متاثر ہوتا ہے ۔اس کے تحت فیڈرل ریزرو کی جانب سے ڈالر کی زیادہ سے زیادہ پرنٹنگ اور لامحدود مقدار کی نرم پالیسی نے مارکیٹ کو قیمتوں میں اضافے کا اشارہ دیا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، اور ” اناج کے چار بڑے تاجر” سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے بن چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ” اناج کے چار بڑے تاجر” دنیا کی متعلقہ فوڈ ٹریڈنگ مارکیٹ کے تقریباً 80فیصد تا 90فیصد کی تجارت کرتے ہیں، اور ان میں سے تین امریکی کمپنیاں ہیں اور ان کے امریکی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ ظاہر ہےکہ بین الاقوامی اناج کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ امریکہ نے انتہائی فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت زیادہ پیسہ کمایا ہے ۔
مارچ میں خوراک کی عالمی قیمتیں ایک نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے تیل سے بنے پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کے لیے بائیو فیول آئل بشمول بائیو ایتھانول اور بائیو ڈیزل کے استعمال کو بھرپور طریقے سے فروغ دیا ہے۔امریکہ دنیا کا سب سے بڑا ایتھانول پیدا کرنے والا ملک ہے۔ 2021 میں، امریکہ نے بائیو ایتھانول کی پیداوار کے لیے تقریباً 135 ملین ٹن اناج استعمال کیا جو آسٹریلیا کی اُسی سال اناج کی کل پیداوار کا تقریباً 2.5 گنا ہے۔بائیو ڈیزل کی تیاری کے لیے بھی بہت زیادہ خوراک کی ضرورت ہے ۔ بین الاقوامی اناج کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 تا 2202 کے مالی سال میں، امریکہ میں بائیو ایندھن کی تیاری کے لیے تقریباً 170 ملین ٹن اناج استعمال کیا گیا ، جو کہ امریکہ میں اناج کی کل کھپت کے 47.4 فیصد کے برابر تھا ۔ خوراک کی اتنی بڑی مقدار کو ایندھن میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اس سے اناج کی قیمتوں میں بالواسطہ اضافہ ہوا ہے اور خوراک کے بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
یہاں ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ نے ہمیشہ “امریکہ فرسٹ” کا علم بلند کرتے ہوئے عالمی مارکیٹ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کی ہے اور ساتھ ہی ڈھٹائی سے خوراک کے بحران کا ملبہ روس پر ڈالا ہے ۔ لیکن جھوٹ کبھی بھی سچ پر غالب نہیں آ سکتا ۔امریکہ خود کو خوراک کے عالمی بحران سے الگ نہیں کر سکتا اور خوراک کے بحران کے پیچھے سب سے بڑا عنصر امریکہ ہی ہے۔