تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ،چینی وزارت خارجہ

بیجنگ (کنٹری نیوز)چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھون اینگ نے یومیہ نیوز بریفنگ میں امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے ممکنہ دورہ تائیوان کے حوالے سے کہا کہ پوری دنیا واضح طور پر دیکھ سکتی ہے کہ امریکہ کی اشتعال انگیز کارروائیوں سے آبنائے تائیوان کی صورتحال میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ، جس کی پوری ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے ۔ منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق حال ہی میں، چین نے بیجنگ اور واشنگٹن میں مختلف فورمز پر اپنے پختہ مؤقف کو بارہا واضح کیا ہے کہ چین امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر کے دورہ تائیوان کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے پانچ نکاتی موقف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اول تو ، امریکی حکومت کی تمام ایجنسیوں بشمول انتظامی اداروں ، قانون سازی اور عدالتی شاخوں کو، امریکی حکومت کی تسلیم شدہ خارجہ پالیسی کو نافذ کرنا چاہیے۔ دوسرا ، ماضی میں انفرادی امریکی سیاست دانوں کے غلط اقدامات کی کسی نظیر کو آگے نہیں بڑھانا چاہیے اور نہ ہی انھیں تائیوان کے معاملے پر بطور آڑ استعمال کیا جانا چاہیے۔تیسرا ، ون چائنا اصول بین الاقوامی تعلقات میں ایک تسلیم شدہ بنیادی اصول اور بین الاقوامی برادری کا عمومی اتفاق رائے ہے۔چوتھا ، امریکہ کی چین کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی نے تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کو تائیوان کے معاملے پر اکسا یا ہے اور چین کی ریڈ لائن اور باٹم لائن کو عبور کرنے کی کوشش کی ہے ۔ پانچواں ، تائیوان کے مسئلے کی تاریخ واضح ہے۔ آبنائے تائیوان کے دونوں کنارے ایک چین سے تعلق رکھتے ہیں ،یہ حقیقت بالکل واضح ہے۔ ہم تائیوان کی علیحدگی پسند اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، اور تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کو کسی بھی شکل میں کوئی گنجائش نہیں دیں گے ۔ اگر امریکہ اسی غلط راہ پر گامزن رہتا تو بعد کے تمام سنگین نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔