تائیوان کے معاملے پر امریکہ غلط راستے پر آگے نہ بڑھے، چینی میڈ یا

بیجنگ(کنٹری نیوز)امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کےچین کے تائیوان کا دورہ کرنے کے حوالے سے، سینیئر امریکی حکام نے آبنائے تائیوان کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ذمہ داری چین پر ڈالنےکی کوشش میں چین کے “حد سے زیادہ رد عمل” پر الزام تراشی کی ہے۔ مزید یہ کہ کچھ امریکی سیاستدانوں نے بھی یکے بعد دیگرے تائیوان کا دورہ کیا ہے جس سے آبنائے تائیوان میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کے بارے میں یہ واضح ہے کہ یہ امریکہ ہی تھا جس نے اس معاملے کو ابھارا ، امریکہ ہی تھا جس نے خود چوری کر کے چور کو پکڑنے کا شور مچایا اور امریکہ ہی تھا جس نے جلتی پر تیل ڈالا۔
اس معاملے پر بین الاقوامی برادری کے کچھ صاحبانِ بصیرت نے متنبہ بھی کیا تھا۔سابق آسٹریلوی وزیر اعظم کیٹنگ نےخبردار کیا تھا کہ اس سے زیادہ ” لاپرواہ اور اشتعال انگیز عمل” کا تصور بھی محال ہے،اگر صورتحال کے بارے میں غلط اندازہ لگایا گیا یا اس سے غلط طریقے سے نمٹا گیا تو خطے اور پوری دنیا کی سلامتی، خوشحالی اور نظم و ضبط کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا. سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ پیلوسی کا تائیوان کا دورہ ایک “غیر دانشمندانہ اقدام” تھا۔
ایک چین کا اصول چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے۔ امریکہ کو نینسی پیلوسی کے اس غیر دانشمندانہ دورے کی غلطی سے سبق حاصل کرنا چاہیے اورایک چین کے اصول اور چین-امریکہ تین مشترکہ اعلامیوں کی طے شدہ درست راہ پر واپس آنا چاہیے،ورنہ چین بھرپور حوصلے و عزم کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا ۔