جاپان خود کوعسکریت پسندی سے مکمل طور پر الگ کر ے ،چین

بیجنگ (کنٹری نیوز)چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا کہ یاسوکونی یادگار جاپان کی عسکریت پسندی کی علامت ہے جو دوسری جنگ عظیم کے چودہ کلاس-اے کے سزا یافتہ جنگی مجرموں کی یادگارہے ۔جاپانی سیاستدانوں کی جانب سے یاسوکونی یادگار سے متعلق منفی عمل تاریخی مسائل پر جاپان کے غلط روئیے کا عکاس ہے۔چین نےاس عمل پر جاپان سے شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے۔پیر کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق تر جمان نے کہا کہ
تاریخ کو صحیح انداز میں سمجھنا اور سنجیدگی کے ساتھ اپنی غلطیوں کا تفصیلی جائزہ لینا ،جنگ کے بعد جاپان کے اپنے ایشیائی ہمسایہ ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی کی لازمی پیشگی شرط ہے۔لیکن ایک عرصے سے جاپان کے بعض سیاستدان اپنی جارحانہ تاریخ کو توڑ مروڑ کر اسے خوبصورت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو فاشسزم کے خلاف جنگ میں عالمی فتح اور جنگ کے بعد بین الاقوامی نظم و نسق کے خلاف سنگین اشتعال انگیزی ہے۔انہوں نے کہا کہ جاپان کو سنجیدگی کے ساتھ تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیئے اور خود کو عسکریت پسندی سے مکمل طور پر الگ کرنا چاہیئِے تاکہ وہ اپنے ہمسایہ ایشیائی ممالک اور عالمی برادری کے اعتماد کو مزید نہ کھوئے ۔واضح رہے کہ 15 اگست کو دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی 77 ویں سالگرہ ہے ،لیکن اسی دن جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا نےمتنازعہ یاسوکونی یادگار پر نذرانہ پیش کیا۔