جب دنیا پر امن نہیں ہے ، تب تو”امن فوج” زیادہ اہم ہے

بیجنگ (کنٹری نیوز)سال 2022 میں جب بحرالکاہل میں موجود ملک ٹونگا ، اچانک سے آتش فشاں اور سونامی کی زد میں آیا تو چینی بحری بیڑے نے 5200 ناٹیکل میل کا سفر طے کر کے امدادی سامان وہاں پہنچایا۔یہ دنیا میں امن کے قیام کی خاطر چینی فوج کی خدمات کی ایک مثال ہے۔منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اپنی 95 سالہ تاریخ سے چینی فوج یہ بات بخوبی سمجھتی ہے کہ امن کا حصول مشکل سےہوتاہے اوراس کا تحفظ بے حد ضروری ہے۔چینی فوج نہ صرف ملک کے اقتدار اعلی ،سکیورٹی اور ترقیاتی مفادات کی حفاظت کرتی ہے ،بلکہ عالمی امن کے تحفظ کے لیے بھی ایک مضبوط قوت بن چکی ہے۔سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک میں چین، دنیا کے امن مشن کے لیے سب سے زیادہ دستے بھیجنے والا ملک اور امن مشن میں فنڈ فراہم کرنے والادوسرا بڑا ملک بھی ہے۔چین کو اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں “کلیدی قوت”قرار دیا گیا ہے۔چینی فوج ،تحفظ امن،جہازرانی کے تحفظ ،انسانیت پر مبنی امداد اور انسداد وبا سمیت دیگر پہلووں سے عالمی برادری کے لیے مسلسل کام کرتی آرہی ہےاورعملی طور پر بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے نظریات کی وضاحت کر رہی ہے۔امن ، چینی قوم کے خون میں موجود ہے اور یہ ہی چینی فوج کا مشن رہا ہے۔
“میں اس وسیع و عریض دنیا میں ، ایک ہلکے پھلکے پر کی مانندہو سکتی ہوں،لیکن ایک پر کی صورت میں بھی میں امن کے لیے کام کرنا چاہتی ہوں۔”یہ ہیٹی میں امن مشن میں جان قربان دینے والی چینی سپاہی حہ چی ہونگ کی خواہش تھی ،چینی فوج کی خواہش اور انتھک کوشش بھی یہی ہےکہ امن کا سورج دنیا کو روشن کردے۔