جنوبی بحیرہ چین میں امریکہ کی اشتعال انگیز کاروائیاں ناکام ہوں گی، چینی میڈ یا

بیجنگ (کنٹری نیوز)امریکہ نے جنوبی بحیرہ چین میں تقریباً ایک ماہ سے اشتعال انگیز کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس نے ایک طرف جنگی جہازوں کو ہزاروں میل دور سے چین کے دروازے پر بھیجا ہے ، تو دوسری طرف قانون کے مطابق خود اپنے دفاع پر مجبور ہونے والے چین پر “جارحانہ ” ہونے کا جھوٹا الزام لگایا ہے۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ ابھی 26 تاریخ کو، دو امریکی حکام نے ایک بار پھر جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے کو ہوا دی ، اور یہ دعویٰ کیا کہ جنوبی بحیرہ چین میں چین کا “جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویہ” جلد یا بدیر “بڑے حادثات” کا باعث بنے گا۔ اسی دن یو ایس بحریہ کا کیریئر جہاز رونالڈ ریگن سنگاپور کی بندرگاہ سے نکل کر دوبارہ جنوبی بحیرہ چین میں چلا گیا۔
’’جارحیت‘‘ کے لحاظ سے دنیا کا کون سا ملک امریکہ کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ ایک بیرونی ملک کے طور پر، امریکہ کئی سالوں سے جنوبی بحیرہ چین میں نام نہاد “نیویگیشن کی آزادی” کے جھنڈے تلے اپنی طاقت کو دکھا رہا ہے، جوجنوبی بحیرہ چین میں عسکریت پسندی کو فروغ دینے کی سب سے بڑی ترغیب ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے چین کے اقتدار اعلیٰ اور سلامتی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اورجنوبی بحیرہ چین کے خطے کے امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لیکن وہ پیچھے ہٹ کر اپنے لیے بنائی گئی ’’جارحانہ‘‘ ٹوپی چین کے سر پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکہ جنوبی بحیرہ چین میں چین اور پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے میں مصروف رہا ہے، تاکہ خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ جنوبی بحیرہ چین امریکہ کے لیے چین کے خلاف اپنی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم کارڈ بن گیا ہے۔
جنوبی بحیرہ چین خطے سے باہر کے ممالک کے لیے ’سفاری پارک‘ نہیں ہے اور نہ ہی اسے بڑی طاقتوں کے مقابلے کے لیے ’جنگ کا میدان‘ بننا چاہیے۔ حالیہ برسوں میں چین اور متعلقہ آسیان ممالک کی مشترکہ کوششوں سے جنوبی بحیرہ چین کی صورتحال عمومی طور پر مستحکم رہی ہے۔ خطے کے تمام ممالک جانتے ہیں کہ امریکہ، جو یہ چیختا ہے کہ دوسرے لوگ جلد یا بدیر “بڑے حادثات” کا باعث بنیں گے، اصل پریشانی پیدا کرنے والا اور جنوبی بحیرہ چین اور ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
تاریخ آخر کار ثابت کرے گی کہ جنوبی بحیرہ چین کے امن کے اس سمندر میں کون عجلت میں گزرنے والا ہے اور کون اصل مالک ہے۔