دنیا کو ان دیکھی بڑی تبدیلیوں اور وبائی صورتحال کا سامنا ہے، چینی صدر

بیجنگ (کنٹری نیوز)چینی صدر شی جن پھنگ نے دعوت پر 25ویں سینٹ پیٹرزبرگ عالمی اقتصادی فورم کے کل رکنی اجلاس میں ورچوئل شرکت کی اور اہم خطاب کیا۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق انہوں نے واضح کیا کہ دنیا کو ایک صدی کی ان دیکھی بڑی تبدیلیوں اور وبائی صورتحال کا سامنا ہے ، اقتصادی عالمگیریت سرد مہری کا شکار ہے اور اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کے نفاذ میں غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے وقت میں جب عالمی برادری مزید مساوی، پائیدار اور محفوظ ترقی کے حصول کے لیے پرعزم ہے، ہمیں مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے اور امن اور خوشحالی کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے نفاذ پر کام کرنا چاہیے .شی جن پھنگ نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں ترقی کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم حقیقی کثیرالجہتی پر عمل کریں۔
دوسرا، ہمیں ترقیاتی شراکت داری کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنے اور ترقیاتی خلیج کو ختم کرنے کے لیے شمال۔جنوب اور جنوب۔جنوب تعاون، تعاون کے وسائل، پلیٹ فارمز اور ترقیاتی شراکت کے نیٹ ورکس، اور ترقیاتی امداد میں اضافہ کریں۔تیسرا، ہمیں اقتصادی عالمگیریت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم ترقیاتی پالیسیوں اور بین الاقوامی اصولوں اور معیارات کے “نرم رابطے” کو مضبوط بنائیں، سپلائی میں خلل، یکطرفہ پابندیوں اور دباؤ کی کوششوں کو مسترد کریں، تجارتی رکاوٹوں کو دور کریں، عالمی صنعتی اور سپلائی چین کو مستحکم رکھیں، بگڑتے ہوئے توانائی اور خوراک کے بحران سے نمٹیں اور عالمی معیشت کو بحال کریں۔چوتھا، ہمیں جدت پر مبنی ترقی کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔  اختراعی عوامل کے بہاؤ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کریں، اختراع پر تبادلے اور تعاون کو گہرا کریں، معیشت میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے گہرے انضمام کو آسان بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جدت کے ثمرات سے سب مستفید ہو سکیں۔
انہوں نے اس موقع پر چینی معیشت پر بھرپور اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کے بنیادی رجحان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔صدر شی جن پھنگ نے واضح کیا کہ چین ترقیاتی امکانات کی جستجو ، ترقیاتی مواقع کے اشتراک ،عالمی ترقیاتی تعاون کو گہرا کرنے اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کی تعمیر کے لیے روس اور دیگر تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔