روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد(کنٹری نیوز)سابق وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نے اگر ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ہے تو روس سے تعلقات لازمی تھے اور روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب ہاؤس میں میڈیا سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان نے روس جانے سے قبل طویل مشاورت کی تھی جبکہ وزیراعظم ہاؤس میں دورہ روس سے قبل 2 اجلاس بھی ہوئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کےساتھ تعلقات میں بہتری پیدا کی اور ایران کےساتھ تجارت بڑھانے کی کوشش کی جس کے تحت ایران کے ساتھ بارڈر مارکیٹ کیلئے ایم اویوز سائن کیے، اسکے علاوہ ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے توانائی بحران پر قابوپاسکتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان قوم کو جگانا چاہتے ہیں کیونکہ حقوق کیلئے نہ کھڑے ہونے والی قومیں ترقی نہیں کرتیں ہیں اور غلامی کی زنجیریں توڑنی ہیں توآزاد خارجہ پالیسی دینی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ آزادخارجہ پالیسی بنانی ہے تو اس کی قیمت اداکرنی پڑیگی اور آزاد خارجہ پالیسی کی قیمت اداکرنی پڑے گی، غلامی کی زنجیریں توڑنی ہے تو ملک کو معاشی مستحکم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نےخود کو کشمیر کا سفیر کہا اور کشمیر کا معاملہ ہر فورم پر اٹھایا۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلے دن سے خواہش تھی ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہو جس کے لئے عمران خان نے بھارت سے کہا آپ امن کی طرف ایک قدم اٹھائے ہم دو اٹھائیں گے کیونکہ عمران خان کی خواہش عوام کو غربت سے نکالنا تھا لیکن ہندوستان نے ہندوتھوا پالیسی پر عمل کیا ۔انہوں نے بتایا کہ پلواما کے ڈرامے میں پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی لیکن ہم نے دو لڑاکا طیارے گرائے اور ابھی نندن کو چائے پلائی ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نہ امریکہ کے خلاف تھے اور نہ ہیں ، ہم نے ہمیشہ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی اور عمران خان خود اس حوالے سے صدر ٹرمپ سے ملے تھے جبکہ کابل سے امریکیوں کی انخلا میں پاکستان کا کیا کردار تھا سب جانتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ چین ہمارا بااعتماد دوست ہیں ،تھا اور رہے گا ، عمران خان نے چین کے تعلقات کو اہمیت اور وسعت دی اور ہم نے سی پیک اتھارٹی قائم کی۔