روس-یوکرین تنازعے سے افریقہ کے بحران میں اضافہ ہوا ہے ، انتونیو گوئتریس

اقوام متحدہ(مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے مغربی افریقی ملک سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار کے دورے کے دوران کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع پورے افریقہ میں “خوراک، توانائی اور مالیات کے تین بحرانوں” کو بڑھا رہا ہے۔پیر کے روز میڈ یا رپورٹس کے مطا بق
انتونیو گوئتریس ے کہا کہ روس- یوکرین تنازع پوری دنیا میں خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور بڑھتی ہوئی قیمتیں مزید لوگوں کو بھوک کی طرف دھکیلیں گی جو افریقہ کے کچھ حصوں میں، جہاں گزشتہ سال سے خوراک کی قیمتوں میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے،وہاں سیاسی عدم استحکام اور سماجی بدامنی کا باعث بن سکتی ہیں۔ فروری میں روس-یوکرین تنازع کے آغاز سے پہلے، افریقہ کی سماجی اقتصادی صورت حال پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی، سماجی تنازعات اور کووڈ-۱۹ کی وبا سے متاثر تھی، خاص طور پر ساحل کے علاقےبشمول سینیگال ۔
اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازعے کے نتیجے میں اس سال 2.5 بلین افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انتونیو گوئتریس کا کہنا ہے کہ قرضوں میں فوری ریلیف فراہم کرنے میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا کلیدی کردار ہے ، تاکہ حکومتیں سماجی تحفظ اور پائیدار ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے کیپٹل کا استعمال کرسکیں۔