سنکیانگ خوشگوار مقام ہے

چین میں ایک بہت مشہور گانا ہے ، جس کے بول ہیں”ہمارا سنکیانگ خوبصورت مقام” ہے۔ سنکیانگ اندرون و بیرون ملک سیاحوں کے لیے پرکشش مقام ہے ۔ کچھ دن قبل ،سنکیانگ نے 2022 کے لیے “چائنا ٹورزم ڈے” کی تشہیر کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا ہے۔ سنکیانگ میں سیاحت روز گار کے مواقع اور لوگوں کی آمدنی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے ، اور اس سے کھپت میں اضافے کو فروغ ملا ہے ۔ حالیہ برسوں میں قوت حیات سے بھری ہوئی سنکیانگ کی سیاحت کی صنعت نے مقامی معاشی اور معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ، اس سے ایک پہلو سے سنکیانگ کے انسانی حقوق کی ترقی ثابت ہوتی ہے ۔
بہت سے غیر ملکیوں نے سنکیانگ کا نام بہت سناہے لیکن وہ اس سے ناواقف ہیں ۔ مختلف نیوز میڈیا سے وہ سنکیانگ کے بارے میں جانتے ہیں ، اور انہوں نے سنکیانگ کے بارے میں کچھ منفی رپورٹس کو بغیر جانے قبول کیا ہے ، لیکن سنکیانگ کی اصل صورتحال بہت سارے لوگوں کے لیے واضح نہیں ہے ، کیونکہ انہیں سنکیانگ آنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ وہ سنکیانگ کی فطرتی خوبصورتی،کثیر الثقافتی رہن سہن اور مقامی لوگوں کی خوشگوار زندگی محسوس نہیں کر سکتے ہیں ۔
سنکیانگ وسیع وعریض ہے۔ 1.66 ملین مربع کلومیٹر پر محیط سنکیانگ چین کے کل رقبے کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ چین کا سب سے بڑا صوبائی انتظامی خطہ ہے۔ سنکیانگ میں چین کی تمام 56 قومیتیں آباد ہیں۔ اس کے علاوہ ، سنکیانگ کا جغرافیائی محل وقوع چین کے لئے بھی انتہائی اہم ہے۔ سنکیانگ، روس ، قازقستان ، کرغزستان ، تاجکستان ، پاکستان ، منگولیا ، بھارت اور افغانستان سمیت آٹھ ممالک سے منسلک ہے ، اور تاریخ میں قدیم شاہراہ ریشم کا ایک اہم چینل بھی رہ چکا ہے ۔ اس وقت سنکیانگ دوسرے ” ایشیا -یورپ کانٹینینٹل برج ” کے لئے بھی ایک لازمی گزر گاہ ہے۔ میں یہ سمجھ سکتی ہوں اس صورت حال کی روشنی میں آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کچھ مغربی ممالک اور میڈیا کی جانب سے سنکیانگ کو بد نام کرنے کا مقصد کیا ہے ۔ آئیے اب ہم حقائق کی بنیاد پر سنکیانگ کی انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک نظر ڈالیں۔
سب سے پہلے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کی خوشگوار زندگی کا حصول تحفظ انسانی حقوق کے لیے سب سے اہم ہے ۔ چین نے سنکیانگ کے استحکام ، قومی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کے لئے بلا روک ٹوک کوششیں کیں۔ ہنگامہ آرائی کے علاقے میں ،جہاں لوگوں کی بقا اور زندہ رہنے کے حقوق کی ضمانت بھی دی جا نہیں سکتی ہے ، تو انسانی حقوق کے بارے میں کیسے بات کی جا سکتی ہے ۔ سنکیانگ میں انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اختیار کردہ مختلف اقدامات نے سنکیانگ میں آباد تمام قومیتوں کے لوگوں کو دہشت گردی سے بچانے اور انہیں پرامن زندگی کی ضمانت فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔ پچھلے سال اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تین اجلاسوں اور 76 ویں جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ، تقریباً 100 ممالک کے مندوبین نے مشترکہ بیانات ، انفرادی تقاریر اور خطوط کے ذریعے سنکیانگ کے معاملے پر چین کی حمایت کا اظہار کیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انصاف پسند لوگ منصفانہ موقف پر قائم رہتے ہیں ۔
دوئم ، ترقی کا حق بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہوتا ہے۔ سنکیانگ کے لوگوں کو غربت سے نجات دلانے کے لئے ، چین کے دوسرے صوبائی یونٹوں نے سنکیانگ کی بھر پور مدد کی ہے ۔ تمام لوگوں کی سخت محنت کے بعد ، بالاآخر 2020 کے آخر میں سنکیانگ نے غربت کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کی ۔تیس لاکھ چونسٹھ ہزار نو سو دیہی غریب لوگ موجودہ معیارات کے مطابق غربت سے نجات پا گئے، اور مطلق غربت کا مسئلہ تاریخی طور پر حل ہو گیا ہے ۔ جیسا کہ امریکہ کوہن فاؤنڈیشن کے چیئرمین رابرٹ لارنس کوہن نے کہاکہ چین انسانی حقوق کے تصور کے بارے میں وسیع اور دور رس سمجھ رکھتا ہے۔مطلق غربت کو ختم کرنا اور کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالنا ایک بہت اچھی مثال ہے۔
مزید برآں، سنکیانگ میں مذہبی انسانی حقوق کی مکمل ضمانت دی گئی ہے، اور مذہبی عقیدے کی آزادی کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔ایک مثال کے طور پر دیکھا جائے کہ سنکیانگ میں مساجد کی تعداد تقریباً 24,000 ہے ، اوسطاً ہر 530 مسلمانوں کے لیے ایک مسجد ہے ، اور یہ تناسب بہت سے مغربی ممالک اور اسلامی ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ اپریل 2021 میں سنکیانگ کا دورہ کرنے کے بعد چین میں پاکستانی سفیر جناب معین الحق نے کہا کہ چینی حکومت مذہبی آزادی کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک اور افراد ایک طویل عرصے سے مذہب اور اقلیتی قومیتوں کے ساتھ سلوک جیسے موضوعات پر چین پر بہتان تراشی کرتے رہے ہیں اور انسانی حقوق کے حوالے سے افواہیں پھیلاتے رہے ہیں۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ سنکیانگ میں بہت سی مساجد ہیں، لوگوں کو مذہب کی آزادی ہے اور اقلیتی قومیتوں کی ثقافتی روایات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ یہ حقائق سب پر عیاں ہیں، اور وہ تمام لوگ جو سنکیانگ کو نہیں جانتے ہیں، انہیں وہاں ذاتی طور پر جانا چاہیے اور سنکیانگ کی خوبصورتی، لوگوں کی خوشی،مختلف قومیتوں کے اتحاد اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کا تجربہ کرنا چاہیے۔
آنجہانی چینی رہنما ماؤزے تنگ نے کہا تھا کہ”تحقیقات کے بغیر، بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔”اور” اگر آپ نے درست تحقیقات نہیں کی ہیں ، تو بھی آپ کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔” چین دنیا بھر سے آنے والے دوستوں کو خوش آمدید کہتا ہے کہ وہ خوبصورت پہاڑوں اور جھیلوں جیسے دلکش قدرتی مناظر، کثیر القومیتی اور مختلف منفرد ثقافتوں کے ہم آہنگ بقائے باہمی کو دیکھنے کے لیے سنکیانگ کا سفر کریں۔ روشن مستقبل کے سامنے مقامی لوگوں کی دلی امیدوں کی خوشی اور مسرت کو محسوس کریں۔ پھر آپ سنکیانگ میں انسانی حقوق سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔