شنگھائی میں کمیونٹی ٹرانسمیشن کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی ،چین

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)چین کی نائب وزیر اعظم سون چھون لان نے نشاندہی کی ہے کہ شنگھائی میں وبا کا خاتمہ اور اس پر قابو پانے کا عمل ایک بے حد اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ۔کمیونٹی ٹرانسمیشن کے خاتمے کےلیے بھرپور کوشش کی جائے گی ،اس کے علاوہ مریضوں،خاص کر عمررسیدہ افراد کے علاج و معالجے کو بہتر بنایا جائے گا اور انسدادی اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے گا۔پیر کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق نا ئب وزیر اعظم نے
ایک ورکنگ ٹیم کے ساتھ دو اپریل سے یکم مئی تک شنگھائی میں انسداد وبا کی نگرانی کی۔ عمررسیدہ افراد کی بڑی تعداد اور اومیکرون کی تیز رفتار منتقلی کی وجہ سے شنگھائی میں وبا کی موجودہ لہر میں بڑی مشکلات کا سامنا رہا ۔حالیہ دنوں ورکنگ ٹیم نے پورے ملک سے نیوکلک ایسڈ ٹیسٹ کے دو ملین سے زائد ریجنٹس اور متعلقہ انسداد ی سازوسامان نیز تیس ہزار سے زائد طبی کارکنان کو شنگھائی بھیجا،اس کے علاوہ فوج کی جانب سے بھی پانچ ہزار سےزائد کارکنان پرمشتمل طبی ٹیمیں بھیجی گئیں تاکہ شنگھائی میں انسداد وبا کے امور میں مدد فراہم کی جا سکے۔فی الحال شنگھائی میں وبائی صورتحال پر موثر انداز میں قابو پا لیا گیا ہے ۔ تیرہ اپریل کو کووڈ-۱۹ سے متاثرہ کیسز میں ایک دن کے اندر 27605 کا اضافہ ہوا تھا جو کہ شنگھائی میں وبا کی موجودہ لہر کے دوران ایک ریکارڈ تھا۔ جب کہ ستائیس اپریل سے ایک دن میں نئے کیسز کی تعداد مسلسل چار دن تک دس ہزار سے کم رہی ہے۔دو تہائی مریض صحت یاب ہو کر ہسپتالوں سے فارغ ہو چکے ہیں۔دومئی کو شنگھائی کے سب سے بڑے موبائل کیبن ہسپتال سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس ہسپتال سے کل ایک لاکھ چھ ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہو کر جاچکے ہیں۔