شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور،24 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا اور انہیں 24 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کےمزید جسمانی ریمانڈ کیلئے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سماعت ہوئی۔ اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا۔شہباز گل سے 5وکالت ناموں پر دستخط کروائے گئے۔شہبازگل نےعدالت میں بیان میں کہاکہ ایس پی نوشیروان مجھے لیکر آئے ہیں،کہا آپ کی ضمانت ہو گئی ہے ،مجھے اسکرین شارٹ دکھایا گیا اور کہا گیا ضمانت ہو گئی مچلکے جمع کرانے ہیں، پرائیویٹ گاڑی میں مجھے بٹھایا گیا اور ادھر لے آئے۔شہباز گل نےکہاکہ گزشتہ رات سے دیکھیں میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے،گزشتہ رات سے میں بھوک ہڑتال پر ہوں ،مجھ سے کسی کو ملنے نہیں دیا جا رہا، رات 12 لوگ کمرے میں آئے مجھے پکڑا اور زبردستی کیلا کھلا دیا اور جوس پلایا۔ انہوں نے کہاہے کہ رات 3 بجے پھر 6 سے 7 لوگ آئے اور مجھے کھانا کھلانے کی کوشش کی گئی، 10سے 12لوگوں نے زبردستی باندھ کر میری شیو کی، مونچھیں نہیں رکھتا۔ لیکن مونچھیں چھڑوا دی گئیں۔زبردستی ناشتہ دینے کی کوشش بھی کی گئی۔جج ملک امان نےکہاکہ اس کا یہ مطلب تو نہیں آپ بھوک ہڑتال پر چلے جائیں،اچھی بات ہے کہ ان کی صحت اچھی ہو گئی۔ دورانِ سماعت جج نے کہا اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نامہ کدھر ہے اس کو دیکھ کر حکم دوں گا۔پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے شہبازگل کی اڈیالہ جیل میں لی گئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔ شہباز گل کے وکلا اور سپیشل پبلک پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔مقامی عدالت کے جج ملک امان نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے شہباز گل کا مزید دو دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔