شہباز گل کا مزید 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد(کنٹری نیوز)شہباز گل کا مزید 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا، عدالت میں پراسیکیوٹررضوان عباسی نے کہا کہ بہت سے مزید پہلوئوں پر ابھی تفتیش کی ضرورت ہے۔ شہباز گِل کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کے خلاف درج مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے، شہباز گل نے بتایا ان پر ساری ساری رات تشدد ہوتے ہیں، عدالت کہے تو تصاویر دکھا سکتے ہیں۔ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ کےلیے پولیس کی اپیل پر سماعت کی۔ دوران سماعت پراسیکیوٹرنے دلائل دیئے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے لکھا کہ شہباز گل کے مطابق انہیں چینل سے کال لینڈ لائن نمبر پر کی گئی، شہباز گل نے کہا ان کا موبائل اس کے نہیں ڈرائیور کے پاس ہے۔۔۔ملزم کے بیان کو حتمی کیسے مان لیا؟ قانون شہادت کے مطابق یہ درست نہیں۔۔۔عاشورہ کی وجہ سے سگنل بند ہونے کا جواز بھی درست نہیں۔۔معمولی نوعیت کے کیسز میں آٹھ دس روز کا ریمانڈ دیا جاتا ہے یہ تو مجرمانہ سازش کا کیس ہے۔مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر کی جسمانی ریمانڈ کےلیے استدعا محض مفروضے کی بنیاد پر مسترد کی۔۔ملزم نے ادارے کے اندر بغاوت کرانے کی کوشش کی۔۔۔شہبازگِل کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیئے کہ ہمیں کیس کا ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔۔ریمانڈ میں کچھ چیزوں کا خفیہ رکھا گیا ہے۔۔ریکارڈ عدالت کے سامنے ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق شہباز گل نے اپنی تقریر تسلیم کر لی، پھر باقی کیا رہا۔ شہباز گل کے خلاف کیس سیاسی انتقام لینے کیلئے حکومت نے بنایا ہے، وکیل جج سے سوال کیا کہ میڈم آپ بتائیں، کیا اس تقریر پر سزائے موت کی دفعات بنتی ہیں۔میں تو ضمانت کی درخواست پر دلائل دینے آیا تھا یہ ریمانڈ کہاں سے آ گیا، جج کے استفسار پر کیس کا ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔۔شہبازگل کے وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ شہباز گل نے بتایا کہ میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے۔ سوال پوچھا جاتا ہے کہ بتائو عمران خان سے ملنے کون آتا ہے۔۔اگر یہی تفتیش کرنی ہے تو جیل میں جا کر کر لیں، جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے۔ شہباز گل کو ضمانت بھی مل گئی تو وہ تفتیش میں تعاون کرینگے، دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔جج کے استفسار پر کیس کا ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا، جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی تھی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ کالعدم کر کے جسمانی ریمانڈ کی اپیل کو زیرالتواء قرار دیا تھا۔