صحت کی عالمی کانفرنس میں تائیوان کی شمولیت کی کوشش ایک بار پھر ناکامی سے دوچار

بیجنگ (کنٹری نیوز)75 ویں عالمی صحت اسمبلی نے اسمبلی کے ایجنڈے میں کچھ ممالک کی طرف سے تجویز کردہ نام نہاد “عالمی صحت اسمبلی میں بطور مبصر تائیوان کی شمولیت” کے بل کو شامل کرنے سے انکار کرنے کا فیصلہ کیا۔منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق یہ مسلسل چھٹا سال ہے جب ڈبلیو ایچ اے نے تائیوان سے متعلق تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، یہ اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ ایک چین کا اصول بین الاقوامی برادری کا عمومی اتفاق رائے ہے اور اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لوگ جنہوں نے “کانفرنس میں تائیوان کی شرکت” کا شور مچایا، انہیں شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔
“تائیوان چین کا ایک حصہ ہے، اور عالمی ادارہ صحت سمیت بین الاقوامی اداروں میں تائیوان کی شرکت کو ایک چین کے اصول کے مطابق ہینڈل کیا جانا چاہیے۔ 2017 کے بعد سے، ” کانفرنسوں میں تائیوان کی شرکت کی حمایت ” کا سیاسی تماشہ بار بار سامنے آیا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک کو اس تماشے کی بار بار ناکامی پر غور کرنا چاہیے۔ ایک چین کے اصول کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، اور صحت کے مسائل پر سیاست کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔دنیا نے واضح طور پر دیکھ لیا ہے کہ تائیوان کے امور سے فائدہ اٹھا کر چین کو کنٹرول کرنے اور “وبا کے بہانے تائیوان کی علیحدگی ” کی سازشیں بار بار ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔