عالمی انتشار اور تبدیلی کے دو رجحانات بدستور جاری ہیں، چینی صدر

بیجنگ (کنٹری نیوز)چینی صدر شی جن پھنگ نے دعوت پر امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں دونوں سربراہان مملکت نے چین-امریکہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق شی جن پھنگ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس وقت عالمی انتشار اور تبدیلی کے دو رجحانات بدستور جاری ہیں اور ترقی اور سلامتی کے دو بڑے خسارے مسلسل نمایاں ہو رہے ہیں۔ ہنگامہ خیز دنیا کے سامنے، عالمی برادری اور تمام ممالک کے عوام چین اور امریکہ سے توقع کرتے ہیں کہ وہ عالمی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے اور عالمی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے میں اپنا قائدانہ کردار ادا کریں گے، یہ دو بڑی طاقتوں چین اور امریکہ کی ذمہ داری ہے۔
شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین امریکہ تعلقات کو اسٹرٹیجک مسابقت کے نقطہ نظر سے دیکھنا اور چین کو سب سے اہم حریف اور سب سے شدید طویل مدتی چیلنج سمجھنا چین امریکہ تعلقات اور چین کی ترقی کے بارے میں غلط فہمی اور چین کی غلط تشریح ہے،جس سے دونوں ملکوں کے عوام اور برادری کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ دونوں فریقوں کو ہر سطح پر رابطے کو برقرار رکھنا چاہیے، موجودہ مواصلاتی ذرائع کا اچھا استعمال کرنا چاہیے اور دو طرفہ تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ موجودہ عالمی معاشی صورتحال چیلنجز سے بھری پڑی ہے۔ چین اور امریکہ کو میکرو اکنامک پالیسی کوآرڈینیشن کرنے ، عالمی صنعتی اور سپلائی چین کے استحکام کو برقرار رکھنے اور عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کی ضمانت جیسے اہم مسائل پر رابطہ برقرار رکھنا چاہیے۔ عمومی اصولوں کے خلاف روابط کو توڑنا امریکی معیشت کو فروغ دینے میں مدد نہیں کرے گا بلکہ عالمی معیشت کو مزید کمزور کر دے گا۔ دونوں فریقوں کو علاقائی ہاٹ اسپاٹ ایشوز پر لگی آگ کو بجھانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے، دنیا کو جلد از جلد وبا سے نجات دلانے میں مدد کرنی چاہیے، معاشی جمود اور کساد بازاری کے خطرات پر قابو پانا چاہیے، اور اقوام متحدہ کی زیر قیادت بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی بنیادی بین الاقوامی ترتیب کو برقرار رکھنا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے تائیوان کے معاملے پر چین کے اصولی موقف پر زور دیا کہ تائیوان کے مسئلے کی تاریخ واضح ہے اور یہ حقیقت اور موجودہ صورتحال بھی واضح ہے کہ آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف ایک چین ہیں۔ چین امریکہ تین مشترکہ اعلامیے دونوں فریقوں کے سیاسی وعدے ہیں اور ایک چین کا اصول چین امریکہ تعلقات کی سیاسی بنیاد ہے۔ ہم “تائیوان کی علیحدگی پسندی ” اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، اور تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کے لیے کسی بھی شکل میں کوئی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔ تائیوان کے معاملے پر چینی حکومت اور چینی عوام کا مؤقف یکساں رہا ہے اور یہ 1.4 بلین سے زیادہ چینی عوام کا عزم ہے کہ وہ چین کے اقتدار اعلیٰ اور علاقائی سالمیت کا پختہ تحفظ کریں گے۔عوام کی رائے عامہ کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی، آگ سے کھیلنے والے خود کو آگ سے جل جاتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ امریکی فریق اسے واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔ امریکہ کو ایک چین کے اصول کی پاسداری کرنی چاہیے اور چین-امریکہ تین مشترکہ اعلامیوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ آج کی دنیا نازک دور سے گزر رہی ہے۔ امریکہ اور چین کا تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے لیے بلکہ دوسرے ممالک کے لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ امریکہ چین کے ساتھ ہموار بات چیت کو برقرار رکھنے، باہمی افہام و تفہیم کو بڑھانے، غلط فہمیوں سے بچنے، مشترکہ مفاد کے شعبوں میں تعاون کرنے، اور اختلافات کو درست طریقے سے حل کرنے کی امید رکھتا ہے۔ امریکی صدرنے کہا میں اس بات کا اعادہ کرنا چاہوں گا کہ امریکہ کی ایک چین کی پالیسی تبدیل نہیں اور نہ ہی بدلے گی اور امریکہ تائیوان کی “علیحدگی ” کی حمایت نہیں کرتا ہے۔
دونوں سربراہان مملکت نے یوکرین کے بحران پر بھی تبادلہ خیال کیا اور شی جن پھنگ نے چین کے اصولی مؤ قف کا اعادہ کیا۔
دونوں سربراہان مملکت کا خیال تھا کہ آپس کی یہ بات چیت واضح اور تفصیلی تھی، انہوں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا، اور دونوں اطراف کی ورکنگ ٹیموں کو اس مقصد کے لیے رابطے اور تعاون جاری رکھنے کی ہدایت کی۔