عالمی مارکیٹ میں توانائی قیمتوں میں اضافہ،ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سبسڈی دینا مشکل

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )بین الاقوامی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر ٹیکسٹائل کی صنعت کو سبسڈی پرگیس اور بجلی کی فراہمی جاری رکھنا مشکل،گردشی قرضے میں کمی کے لیے سبسڈی کا خاتمہ ناگزیر،قومی گرڈ میں گرین انرجی مکس بڑھانا وقت کی ضرورت،آر ایل این جی قیمت خرید 31ڈالر قیمت فروخت 6.5ڈالر۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق حکومت کے لیے بین الاقوامی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر ٹیکسٹائل کی صنعت کو سبسڈی پرگیس اور بجلی کی فراہمی جاری رکھنا مشکل ہورہاہے۔ حال ہی میںپاکستان لیکویفائیڈ نیچرل گیس لمیٹڈ نے مئی اور جون کے لیے چھ آر ایل این جی ریگیسیفائیڈلیکویفائیڈ نیچرل گیس کارگوز 24.2 ڈالراور 31.8 ڈالرفی ایم ایم بی ٹی یوکی شرح سے خریدے جو کہ 2018 کے آخر میں اختیار کی گئی علاقائی طور پر مسابقتی توانائی ٹیرف پالیسی کے تحت6.5 ڈالرفی ایم ایم بی ٹی یو سے صنعت کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت بھی مارچ 2022 میں 71 فیصد اضافے کے ساتھ 12.41 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچ گئی جو مارچ 2021 میں 7.3 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ تھی۔ ایندھن کے تیل سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت مارچ 2021 میں 11.9 روپے فی کلو واٹ فی گھنٹہ، جو مارچ 2022 میں بڑھ کر 22.5 روپے تک پہنچ گئی۔ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے شعبے کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ توانائی علاقائی سطح پر مسابقتی شرح پر دستیاب ہو۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں مالی سال جولائی مارچ 2021-22 کے پہلے نو مہینوں کے دوران ملک کی کل برآمدات 23.33 ارب ڈالر تھیں جن میں سے 61 فیصدٹیکسٹائل کے شعبے سے آئی تھیں اور یہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران حاصل کی گئی 11.36 ارب ڈالر سے 26 فیصد زیادہ ہیں۔ زیرو ریٹیڈ سیکٹرز کے ایکسپورٹ اورینٹڈ یونٹس کے لیے حکومت قدرتی گیس کی مسابقتی قیمت 6.5 ڈالراور بجلی کی مقررہ شرح 7.5 سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ فراہم کرتی ہے۔ تاہم ستمبر 2020 میں بجلی کے نرخوں میں 7.5 سینٹس فی کلو واٹ گھنٹہ سے 9 سینٹس فی کلو واٹ گھنٹہ پر نظر ثانی کی گئی تھی۔ اگر ٹیکسٹائل سیکٹر کو اپنی پوری صلاحیت کا ادراک کرنا ہے اور اپنے کسٹمر بیس کو بڑھانا ہے تو آر سی ای ٹی پالیسی کو جاری رکھنا چاہیے جس میں صارفین کو خاص طور پر کمرشل سیٹ اپ کو سستی اور ماحول دوست بجلی فراہم کرناشامل ہے۔ قومی گرڈ میں سبز توانائی کے مکس کو بڑھانے سے ملک کو اپنے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ حکومت کو گھریلو شعبے کو دی جانے والی سبسڈی کو بھی آہستہ آہستہ کم کرنا چاہیے تاکہ بجلی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ حکومت کراس سبسڈی کا بھی سہارا لے سکتی ہے اورصنعت کے لیے ٹیرف کی شرحوں میں کمی کر سکتی ہے