عمران خان کی 2 مقدمات میں ضمانت منظور

China sets example bringing people out of poverty Imran Khan My Country
China sets example bringing people out of poverty Imran Khan My Country

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خاتون جج ،آئی جی اور ڈی آئی جی پولیس کو دھمکیاں دینے کے کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ضمانت منظور کر لی گئی جبکہ اسلام آباد میں دفعہ 144 کے باوجود ریلی نکالنے کے خلاف درج مقدمے میں بھی ضمانت منظور ہو گئی۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پیش ہوئے اور ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست دائر کی۔ عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت یکم ستمبر تک منظور کر لی۔انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ضمانت ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کی۔عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ 26 اگست کو الیکشن ہے اور عمران خان 9 حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں اس لیے ہم لمبی تاریخ نہیں مانگ رہے لیکن الیکشن کے بعد کی کوئی تاریخ دی جائے۔وکیل فیصل چودھری نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کو عدالت کے سامنے آنے دیں، جس پر جج راجہ جواد عباس نے کہا کہ عمران خان کو بیٹھا رہنے دیں، ان کی ضرورت نہیں ہے۔بابر اعوان نے عدالت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایف آئی آر دیکھیں۔ مجسٹریٹ علی جاوید نے عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرایا اور مقدمہ کے مطابق عمران خان کی تقریر سے 3 لوگوں کو دھمکیاں دی گئیں۔ شرم کرو کے الفاظ کو دھمکی بنا دیا گیا ورنہ اس حکومت کے کئی وزیر اندر ہوتے۔انہوں نے کہا کہ آئی جی اور ڈی آئی جی کو کہا تمھیں نہیں چھوڑنا، کیس کریں گے، اقوام متحدہ نے نوٹس لیا اور پوری دنیا چیخ اٹھی ہے۔ مجسٹریٹ صاحبہ زیبا آپ بھی تیار ہو جائیں آپ کے اوپر بھی ایکشن لیں گے۔انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست بابر اعوان اور علی بخاری کے ذریعے عدالت میں دائر کی گئی تھی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پولیس نے انتقامی کارروائی کے تحت انسداد دہشت گردی کا مقدمہ بنایا۔ عدالت ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرے۔دراخواست پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے سماعت کی۔اس موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جوڈیشل کمپلیکس کے چاروں اطراف کی سڑکیں بند کر دی گئی تھیں اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جوڈیشل کمپلیکس کے چاروں اطراف پولیس اور ایف سی کے 400 اہلکار تعینات رہے۔