ملک کے حالات ٹھیک ہونے کے بجائے مزید بگڑ رہے ہیں، سراج الحق

پشاور(کنٹری نیوز)میر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ ملک کے حالات ٹھیک ہونے کے بجائے مزید بگڑ رہے ہیں۔سراج الحق نے مرکزی اسلامی پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے سیاسی رہنماؤں سے ملاکنڈ کی ہے، صوبے اور ملاکنڈ ڈویژن میں بدامنی ہے اور ایک خوف سی صورتحال ہے۔انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے لوگوں نے بہت قربانی دی تھی، 50 لاکھ لوگوں نے اپنے گھر چھوڑ دی تھی، یہ تمام معاملات ایک گریٹ گیم کا حصہ تھا، اب ایک بار پھر ایک خوف اور غیر معمولی صورتحال پیدا کی گئی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے لوگ اب کسی قسم کی بدامنی کے لیے تیار نہیں، بے امنی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اس وقت سیاسی، سماجی اور ہر طبقے کے لوگ محفوظ نہیں۔سراج الحق نے کہا کہ امن کے خاطر جب بھی لوگوں سے تعاون مانگا گیا لوگوں نے دیا ہے، اب لوگوں کو امن کے قیام کے لئے لوگوں کو حکومت کا تعاون چاہے۔انکا کہنا ہے کہ حالت ٹھیک ہونے کے بجائے مزید بگڑ رہے ہیں، اب اگر کوئی ٹارگٹ کلنگ یا بدامنی کا واقعہ پیش آیا تو حکومت براہ راست ذمہ دار ہوگی، اب کسی بھی بدامنی کے واقعہ کے بعد ہم نکل کر گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی میں 13 جماعتیں حکومت میں شامل ہے اور صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، امن کا قیام مرکزی اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ جب کوئی قتل ہوگا اور اس کے قاتل گرفتار نہ ہو تو اس کے ذمہ داری حکومت کی ہوگی، حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرے۔سراج الحق نے کہا کہ جامعات اسلامی نے مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کیے ہیں، بجلی کے 200 یونٹ استعمال کرنے پر 11 مختلف ٹیکسز لاگو کیے جاتے ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 20 ارب یونٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، جس میں 12 ہزار یونٹ ہمارے صوبے کی ضرورت ہے، 25 ہزار مساجد کو بھی بجلی کا بل بھیجا جاتا ہے، بتایا جاتا ہے کس مسجد میں ٹی وی لگا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ حکومت کے مطابق 25 فیصد بجلی ضائع اور لان لاسز ہورہی ہے، جس کا بوجھ بھی عوام پر ڈالا جاتا ہے، ایس ڈی او اور دوسرے افسران کا بوجھ بھی عوام پر ڈالا جاتا ہے۔انکا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی بجلی لیکر نیشنل گریڈ میں ڈالا جاتا ہے اور پھر 3 روپے یونٹ واپس ہم پر 20 اور 28 روپے میں فروخت کی جاتی ہے، خیبرپختونخوا میں 20 ارب یونٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، مگر پھر بھی یہاں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ 75 سال ہوگئے پاکستان کو آزاد ہوئے مگر اب تک کسی نے ایک دن کے لیے بھی اللہ کا دین نافذ نہیں کیا۔