پاکستان میں 2کروڑ 90لاکھ افراد تمباکو نوشی کاشکار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان میں 2کروڑ 90لاکھ افراد تمباکو نوشی کاشکار،ہر سال ایک لاکھ 70ہزار موت کے منہ میں چلے جاتے،ملک میں سگریٹ خطے میں سب سے کم قیمت پر دستیاب، قومی تمباکو کنٹرول پالیسی نافذکرنے کی اشد ضرورت،حکومت کو مالی سال 2021 میں تمباکو ٹیکس سے 135 ارب روپے کی آمدنی، تمباکو نوشی سے بیماریوں کی لاگت 615 ارب روپے سالانہ۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان کی معیشت پر تمباکو کے بوجھ کے بارے میں زبردست حقائق کا انکشاف کیا ہے ۔حکومت نے مالی سال 2021 میں تمباکو ٹیکس سے 135 ارب روپے کی آمدنی حاصل کی جبکہ پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہونے والی تمام بیماریوں کل لاگت 615 ارب روپے سالانہ تھی۔ تمباکو کی صنعت کا حصہ تمباکو نوشی کی کل لاگت کا تقریبا 22 فیصد ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران تمباکو ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ تمباکو ہیلتھ لیوی بل ابھی تک زیر التوا ہے۔پلاننگ کمیشن میں پائیدار ترقی کے اہداف کے سربراہ محمد علی کمال نیویلتھ پاک سے گفتگو میں کہا کہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں تمباکو کی صنعت آسانی سے نشانہ بنا سکتی ہے۔ پاکستان کے صحت کے اخراجات ملک کی جی ڈی پی کا صرف 1.2 فیصد ہیں جو کہ دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو کے استعمال کو روک کر زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں اور یہ تبھی ممکن ہے جب تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ ٹیکس عائد کر کے ان کی مانگ کو کم کیا جائے۔تمباکو سے بچاو کی مہم کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمدنے کہاکہ ہمارے معاشرے میں سگریٹ نوشی ایک خاموش قاتل ہے جس کے 29 ملین فعال صارفین ہیں۔ ہر سال، 170,000 لوگ تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے نتیجے میں مر جاتے ہیں، حکومت پاکستان کے سابق ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر ضیا الدین اسلام نے کہاکہ ڈبلیو ایچ او فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کے مطابق ہمارے نوجوانوں میں تمباکو کا استعمال ناقابل قبول حد تک زیادہ ہے، اور یہ نشہ آور مصنوعات ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہمارے ملک میں سگریٹ خطے میں سب سے کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے میں مدد ملے گی۔نیکوٹین مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے رواں مالی سال 2021-2022 کے پہلے آٹھ ماہ جولائی تا فروری میں تمباکو کی برآمد میں اضافہ ہوا۔پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق جولائی تا فروری 2021-22 کے دوران تمباکو کی برآمدات 36,115 ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ مالی سال 2020-2021 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 62.17 فیصد زیادہ ہیں۔بہت سے ایشیائی ممالک نے اپنی کھپت کو کم کرنے کے لیے تمباکو پر ٹیکس بڑھا دیا ہے۔ انڈونیشیا میں 12 فیصد، ترکی میں 47 فیصد، روس میں 4 فیصد اور فلپائن میں پانچ پیسو فی پیک اضافہ ہوا۔تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافہ کھپت کو کم کرنے اور حکومت کے لیے زیادہ ریونیو پیدا کرنے کے لیے سب سے موثر پالیسی ہے، جس سے صحت سہولت کارڈ پروگرام کو مالی اعانت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔تمباکو نوشی اور تمباکو سے متعلق بیماریوں کے خطرات کے بارے میں رپورٹنگ کے لیے میڈیا کو شامل کرنا ضروری ہے۔کیونکہ سوشل میڈیا کا عروج اور غلط معلومات کے تیزی سے پھیلا وسے صحت عامہ کو خطرہ ہے۔میڈیا کو تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے اور تمباکو کی صنعت کے فریب کارانہ ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ حکومت کو تمباکو کے استعمال میں کمی، بچوں کی غذائیت کی ضمانت اور صحت عامہ کی بہتری کو یقینی بنانے کے لیے قومی تمباکو کنٹرول پالیسی نافذ کرنی چاہیے۔