پولیس افسران اور خاتون جج کو دھمکیاں، عمران خان کی تین روزکی حفاظتی ضمانت منظور

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس افسران اور خاتون جج کو دھمکی دینے کے خلاف درج مقدمے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی 3 روز کے لیے راہداری ضمانت منظور کر لی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس بابر ستار نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ پولیس نے عمران خان کے گھر کا گھیراؤ کررکھا ہے، وہ ٹرائل کورٹ میں پیش ہونا چاہتے ہیں، حفاظتی ضمانت منظور کی جائے، عمران خان اگر عدالت آتے ہیں تو پولیس گرفتار کرلے گی، انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج چھٹی پر ہیں، متعلقہ کورٹ کے جج کی چھٹی کے باعث ہائی کورٹ سے رجوع کیاہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ ابھی تو پٹیشن انٹرٹین نہیں ہوئی، اس پر اعتراض ہے۔ عدالت نے عمران خان کی 25 اگست تک راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں انسداد دہشتگردی کی عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وکلا بابر اعوان اور فیصل چوہدری نے دائر درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گزشتہ روز دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا لیکن درخواست گزار کا ماضی کا کوئی کرمنل ریکارڈ بھی نہیں ہے۔عمران خان کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ عدالت جب کہے مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں، ماضی میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں، نہ ہی کبھی سزا ہوئی، فرار ہونے یا پراسیکوشن کے شواہد خراب کرنے کاامکان تک نہیں، ضمانتی مچلکے جمع کرانے کو تیار ہوں، ضمانت منظور کی جائے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق عمران خان نے بائیو میٹرک نہیں کروایا، انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جانے کی بجائے ہائی کورٹ کیسے آ گئے؟ جبکہ تیسرا اعتراض ہے کہ دہشت گردی کے مقدمے کی مصدقہ نقل فراہم نہیں کی گئی ہے۔خیال رہے کہ عمران خان کے خلاف پولیس افسران اور خاتون جج کو دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔