چین، شاندار فصل، چینی دیہی علاقوں کی سب سے خوبصورت تصویر

بیجنگ (کنٹری نیوز)ستمبر سنہری خزاں اور فصلوں کی کٹائی کا موسم ہے۔ اس خوش نما مہینے میں چینی کسان فصلوں کی کٹائی کا تہوار مناتے ہیں ۔ چین کے وسیع دیہی علاقوں میں، سال کا سب سے خوبصورت وقت شروع ہو گیا ہے۔ آپ ہر جگہ دلکش وحسین مناظر اور فصل کی کٹائی کی خوشی محسوس کر سکتے ہیں۔بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
چینی حکومت ہمیشہ زراعت کی ترقی کو بہت اہمیت دیتی ہے۔گزشتہ دس سے زائد سالوں میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کی طرف سے سال کے شروع میں جاری کردہ دستاویز نمبر 1کا موضوع ” زراعت، دیہی امور وکسان” رہا ہے ۔ ان دستاویزات میں زرعی اپ گریڈنگ، دیہی امور میں پیش رفت اور کسانوں کی ترقی کے لیے مخصوص انتظامات تجویز کیے گئے ہیں۔ صدر شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ” زراعت ، دیہی امور اور کسانوں ” کے مسائل کے حل کو پارٹی کے کام کی اولین ترجیح ہونا چاہیے، زراعت اور دیہی علاقوں کی ترقی کو ترجیح دینے پر اصرار کرنا چاہیے اور سوشلسٹ دیہی احیاء کے راستے پر گامزن ہونا چاہیے۔
اچھی پالیسیوں اور مخصوص اقدامات سے، حالیہ برسوں میں چین کی زرعی پیداواری صلاحیت میں مسلسل بہتری آئی ہے، دیہی لوگوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور دیہی علاقوں کے مناظر بھی ایک نئی شکل اختیار کر گئے ہیں ۔ فصلوں کی کٹائی کا فیسٹیول صرف دیہی علاقوں کے کسانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مقامی خصوصی زرعی مصنوعات کی فروخت کا میلہ بھی بن گیا ہے۔ ملک بھر کے لوگ لائیو سٹریم سیلنگ اور انٹرنیٹ پلس سیلز پلیٹ فارمز کے ذریعے مختلف جگہوں کی زرعی مصنوعات جلدی اور آسانی سے خرید سکتے ہیں۔ شاندار پیداوار کی و جہ سے کسانوں کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گیا ہے اوران کی کاشت کاری میں مشغول ہونے کا جوش بھی بڑھ گیا ہے۔
کسانوں کو اچھی زندگی کے حصول میں مدد دینے کے لیے، چین کے تمام علاقوں نے مقامی حالات کے مطابق زرعی ترقی کے مختلف نئے ماڈلز آزمائے ہیں۔ان میں سے کچھ نے اکائیوں کے طور پر دیہاتوں کے ساتھ زرعی کوآپریٹیو قائم کیے ہیں، زمین کا مرکزی انتظام کیا ہے، اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق مصنوعات لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اچھے اقتصادی فوائد حاصل کر سکیں ۔ اس کے علاوہ متعدد دیہات میں خاندانی فارمز قائم کئے گئے ہیں ۔ کسانوں کو تکنیکی مدد فراہم کرتے ہوئے روایتی پودے لگانے کو ماحول دوست زراعت میں ترقی دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، مرغیوں کو پالنے کے لیے کیڑے پالے جاتے ہیں، سبزیوں کی کھاد بنانے کے لیے چکن کی کھاد کا استعمال کیا جاتا ہے، اور سبزیوں کا استعمال کیڑوں کو کھلانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایسی ماحول دوست کھیتی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ کاشت کاری اور زرعی ترقی کے لیے پیشہ ور اور تکنیکی اہلکار کسانوں کے مسائل کو حل کرنے، کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی اور نئے آئیڈیاز فراہم کرنے کے لیے اکثر دیہات میں جاتے ہیں تاکہ وہ دیہی ترقی کی نئی امید دیکھ سکیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دیہی احیاء دیہی معیشت کی ترقی کے لئے لازم و ملزوم ہے۔جب تک کسانوں کی اکثریت اپنی زرعی پیداوار سے خوش و مطمئن ہے، اچھی آمدنی حاصل کرتی ہے، اور اپنے مستقبل سے پر امید رہتی ہے اس وقت تک دیہی علاقوں کی ترقی بھی امید سے بھرپور ہوگی۔مستقبل میں، لوگوں کے سامنے بمپر فصلوں ، اور خوشحال کسانوں کے مزید خوبصورت مناظر آئیں گے ۔
صدر شی جن پھنگ کے دل میں زرعی ترقی اور غذائی تحفظ کی ایک خاص اہمیت اور واضح فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ “چینی عوام کے چاول کا پیالہ ہر وقت ان کے اپنے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔” پچھلے دس سالوں پر نظر ڈالیں تو، چین کی اناج کی پیداوار میں سال بہ سال اضافہ ہو رہا ہے، زرعی اور سائیڈ لائن مصنوعات کی سپلائی وافر ہے۔ “چاول کے تھیلے”، “سبزیوں کی ٹوکریاں” اور رنگین “فروٹ پلیٹس” نے قیمتوں کو مستحکم کرنے اور افراط زر کو روکنے کے لیے مضبوط مدد فراہم کی ہے ، اور اندرون اور بیرون ملک مختلف خطرات اور چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ضروری اعتماد کا اضافہ کیا ہے۔