چین، قومیتوں کے حقوقِ معاش کا تحفظ اور بہتر زندگی کے موضوع پر سیمینار

بیجنگ (کنٹری نیوز)اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پچاسویں اجلاس کے آن لائن ضمنی اجلاس میں “سنکیانگ میں مختلف قومیتوں کے حقوقِ معاش کا تحفظ اور بہتر زندگی ” کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ،چین،پاکستان،برازیل اور کیمرون سمیت دیگر ممالک کے ماہرین اور دانشوروں نے سنکیانگ میں حقوقِ معاش اور انسانی حقوق کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا۔اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
چین کی ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات کے ہیومن رائٹس ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسچینج سینٹر کے ڈائریکٹر زوو فینگ نے کہا کہ چین کے سنکیانگ نے ہمیشہ انسانی حقوق کے عوام کو اولین اہمیت دینے والے تصور پر عمل کیا ہے، جس سے تمام قومیتوں کے لوگ اصلاحات اور ترقی کے ثمرات سے استفادہ کر سکتے ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ میں مسلسل نئی پیش رفت جاری رہتی ہے۔لیکن بعض ممالک نے سنکیانگ سے متعلق جھوٹ پھیلایا اور یک طرفہ پابندی لگاکر عالمی انسانی حقوق کے تحفظ کو نقصان پہنچایا ہے۔عالمی برادری کو انسانی حقوق کے عالمی انتظام و انصرام کو مشترکہ طور پر فروغ دینا چاہیئے اور بنی نوع انسان کا ہم نصیب معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
سنکیانگ سے متعلقہ مسائل کو امریکہ کی طرف سے بڑھاوا دینے کے بارے میں، پیکنگ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ایکسچینج اینڈ انڈرسٹینڈنگ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر وانگ دونگ کا خیال ہے کہ امریکہ کا “انسانی حقوق” کا کارڈ کھیلنے کا قلیل مدتی مقصد اپنی پارٹی کی داخلی کشمکش اور اقتدار پر قبضے کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ہے، جب کہ اس کی طویل مدتی حکمت عملی کا مقصد چین کو نئی سرد جنگ کا ہدف بنانا ہے تاکہ چین کو دبانے اورامریکہ کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے “اخلاقی حمایت” مل سکے گی۔
سیینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کی پاکستانی ریسرچر زون احمد کا کہنا ہے کہ چین کی حاصل کردہ کامیابی ،خاص طور پر سنکیانگ کی ترقی اور کامیابیاں ، ترقی پذیر ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ایک مثال ہیں۔