چین، کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی کا قائد بن گیا، یو این ڈی پی

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل کینی وگناراجا نے کہا کہ چین کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی اور پائیدار توانائی کی اختراع کے فروغ کا  قائد بن گیا ہے۔ چین کی معیشت کے حجم کو دیکھتے ہوئے، چین کے اقدامات ،موسمیاتی تبدیلی کے عالمی ردعمل کے لیے بھی رہنما  کردار ادا کریں گے ۔ موسمیاتی تبدیلی دنیا کو درپیش ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور مختلف ممالک کو اس مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے اپنے اختلافات کو ختم کرکے مالی طور پر اور پالیسیز کے  ذریعے مدد فراہم کرنے  کی ضرورت ہے۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
ڈائیلاگ کے شرکاء نے کہا کہ چین نے ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام اور قدرتی ماحول کے تحفظ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور چین ایک غیر فعال وصول کنندہ سے ایک فعال، شراکت دار  اور اہم رہنما میں تبدیل ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور آلودگی کے تین بڑے بحرانوں کا سامنا کرتے ہوئے، چین نے کاربن میں کمی، آلودگی میں کمی، سبز ے کو پھیلانے  اور نمو کے فروغ  کو مشترکہ طور پر آگے بڑھایا ہے، اقتصادی اور سماجی ترقی کی جامع سبز تبدیلی اور مزیدمضبوط، سبز اور صحت مند عالمی ترقی کے حصول کو فروغ دیا ہے۔
وا ضح رہے کہ “اسٹاک ہوم+50″ چائنا اسٹیک ہولڈرز ڈائیلاگ 27 سے 29 اپریل  تک بیجنگ میں منعقد ہوا۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی و ماحولیاتی پروگرام،  چین کی جانب سے ماحولیات اور آب و ہوا کے شعبے سے متعلقہ رہنماؤں سمیت معروف ماہرین اور محققین نے اجلاس میں شرکت کی۔ اقوام متحدہ نے 5 جون 1972کو،  ہر سال جون کی پانچ تاریخ کو ” ماحولیات کا عالمی دن ” قرار دیا ۔ رواں سال ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر، “اسٹاک ہوم+50” عالمی سربراہی اجلاس سویڈن میں منعقد ہوگا