چین، ہم نصیب معاشرے کے قیام کا نیا روڈ میپ

بیجنگ (کنٹری نیوز)صنعت کے ذریعے غربت کے خاتمے سے لے کر سیاحت کی ترقی کے ذریعے غربت کے خاتمے تک، اور ماحولیات کی بہتری کے ذریعے غربت کے خاتمے سمیت ، چین نے تقریباً 100 ملین لوگوں کو غربت سے نکالنے کے اپنے تجربے کو دنیا کے ساتھ بغیر کسی روک ٹوک کے شیئر کیا ہے۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
آج، صحت، سبز، ڈیجیٹل، اختراع اور دیگر شعبے “بیلٹ اینڈ روڈ ” تعاون کے لیے ترقی کے نئے امکانی نکات بن چکے ہیں۔
ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030 تک بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی روشنی میں مشترکہ تعمیر سے وابستہ ممالک کی تجارت میں 2.8 فیصد سے 9.7 فیصد تک اور عالمی تجارت میں 1.7 فیصد سے 6.2 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔توقع ہے کہ 7.6 ملین افراد کو انتہائی غربت سے نکالا جائے گا اور 32 ملین افراد کو درمیانی درجے کی غربت سے نکالا جائے گا۔
پچھلے دس سالوں میں، چین نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کو برقرار رکھا ہے، اور “بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ تعمیر کو ایک عملی پلیٹ فارم کے طور پر لیا ہے تاکہ دنیا کی مستحکم اور طویل مدتی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا جا سکے۔