چینی اور غیر ملکی ماہرین نے عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی پر تبادلہ خیال کیا اور چین کی انسانی حقوق کی ترقی کی کامیابیوں کو تسلیم کیا

5 جولائی کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس کی ایک سائیڈ لائن کانفرنس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوئی جس کا موضوع تھا “عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کی مضبوطی اور تمام انسانوں کی مشترکہ اقدار کا فروغ “۔ چینی اور غیر ملکی مہمانوں نے اجلاس میں عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے فروغ کی سمت اور قابل عمل راستے پر تبادلہ خیال کیا ۔شرکائے اجلاس نے چین کی انسانی حقوق کی کامیابیوں، گورننس کے تصورات اور طریقوں پر تبادلہ خیال کیا اور ان کی تصدیق کی۔
چین کی اقوام متحدہ کی انجمن کے صدر وانگ چھاؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی حقوق انسانی تہذیب کی ترقی کی علامت ہیں۔ مختلف تہذیبیں انسانی حقوق کے بارے میں مختلف تفہیم رکھتی ہیں، لیکن انسانی زندگی، قدر اور عزت کی حفاظت اور سب کے لیے انسانی حقوق کا حصول انسانی معاشرے کا مشترکہ مقصد ہے۔ موجودہ عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے طریقہ کار کو درپیش ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ کچھ مغربی ممالک بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظام کو مسلسل سیاست کرنے اور اس کو آلہ کار بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، دوہرے معیار پر عمل کرتے ہیں اور انسانی حقوق کے مسائل کو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا صورتحال نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی تعاون کی فضا کو شدید طور پر خراب کر دیا ہے، جس پر توجہ دینے اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ”
نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ کے اسکالر فیلم ہیڈمیئر نے کہا کہ چین ممالک کے درمیان “پل” کا کام کر سکتا ہے اور عالمی امن اور انسانی حقوق کی حکمرانی کو فروغ دینے میں منفرد کردار ادا کر سکتا ہے۔
اجلاس میں شرکا نے انسانی حقوق کی ترقی میں چین کی کامیابیوں کو سراہا۔