چینی صدر کی میزبانی میں 14 ویں برکس سمٹ کا انعقاد

Xi announces opening of Hong Kong-Zhuhai-Macao Bridge My Country
Xi announces opening of Hong Kong-Zhuhai-Macao Bridge My Country

یجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک )چینی صدر شی جن پھنگ کی میزبانی میں 14 ویں برکس سمٹ کا ورچوئل انعقاد کیا گیا۔ رواں برس برکس سمٹ کا موضوع ہے  معیار کی برکس شراکت داری، عالمی ترقی کے نئے دور کا آغاز”۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
صدر شی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرد جنگ کی ذہنیت اور گروہی تصادم کو ترک کرنا چاہیے، گزشتہ برس دنیا کو وبائی صورتحال کا سامنا رہا ، عالمی اقتصادی بحالی مشکل صورتحال سے دوچار رہی اور امن و سلامتی کے مسائل زیادہ نمایاں ہو چکے ہیں۔ سنگین اور پیچیدہ صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے، ہم ہمیشہ کھلے پن، جامعیت اور جیت جیت تعاون کے “برکس جذبے” پر کاربند رہے ہیں، یکجہتی اور تعاون کو مضبوط کیا ہے، اور مشکلات پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کیا ہے۔
شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ اہم ابھرتی ہوئی منڈیوں اور بڑے ترقی پذیر ممالک کے طور پر، برکس ممالک کو اپنی ذمہ داریوں اور اقدامات میں بہادری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور دنیا میں مثبت، مستحکم اور تعمیری قوتوں کو داخل کرنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سب سے پہلے، ہمیں انصاف اور شفافیت کے لیے آواز اٹھانی چاہیے، بین الاقوامی برادری میں حقیقی کثیرالجہتی کو فروغ دینا چاہیے، اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کو برقرار رکھنا چاہیے، سرد جنگ کی ذہنیت اور گروہی تصادم کو ترک کرنا چاہیے، یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرنی چاہیے۔ صدر شی نے کہا کہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے “بڑے خاندان” کے ساتھ بالادستی کے “چھوٹے دائرے” کو رد کرنا چاہیے۔
دوسرا، ہمیں وبا کو شکست دینے کے لیے اپنے اعتماد کو مضبوط کرنا چاہیے، عوام اور انسانی زندگی کے لیے ذمہ دارانہ رویے اپناتے ہوئے وبا کی روک تھام اور کنٹرول کا ٹھوس انتظام کرنا چاہیے ، انسداد وبا کے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنا چاہیے، اور مشترکہ طور پر انسانی زندگی اور صحت کا تحفظ کرنا چاہیے۔
تیسرا، ہمیں اقتصادی بحالی کے لیے ہم آہنگی کو یکجا کرنا چاہیے، میکرو پالیسی کوآرڈینیشن کو مضبوط کرنا چاہیے، صنعتی اور سپلائی چینز کے تحفظ اور ہمواری کو یقینی بنانا چاہیے، ایک کھلی عالمی معیشت کی تعمیر، عالمی ترقی کو درپیش بڑے خطرات اور چیلنجوں سے نمٹنا چاہیے ، اور لچکدار اقتصادی ترقی کے لیے مزید جامعیت کی جستجو کرنی چاہیے۔
چوتھا، ہمیں پائیدار ترقی کو فروغ دینا چاہیے، عوام پر مبنی ترقی کے فلسفے پر عمل کرنا چاہیے، غربت میں کمی، تحفظ خوراک، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا چاہیے، اور پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے 2030 ایجنڈے کے نفاذ کو فروغ دیتے ہوئے سبز اور صحت مند عالمی ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے اس جانب اشارہ کیا کہ میں “اعلیٰ معیار کی برکس شراکت داری، عالمی ترقی کے نئے دور کا آغاز” کے موضوع پر آپ کے ساتھ گہرائی سے تبادلہ خیال اور سودمند بات چیت کا منتظر ہوں تاکہ مشترکہ طور پر اعلیٰ برکس تعاون کی معیاری ترقی کو فروغ دینے میں دانش مندانہ کردار ادا کیا جا سکے ۔