چین امریکہ تعلقات کی ترقی چین کی یکطرفہ ذمہ داری نہیں ہے، چینی میڈ یا

China wont wage a currency war against the US despite rising My Country
China wont wage a currency war against the US despite rising My Country

بیجنگ (کنٹری نیوز)سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے خارجہ امور کمیشن کے دفتر کے ڈائریکٹر یانگ جیے چھی نے امریکی صدر کے قومی سلامتی کے معاون جیک سلیوان کے ساتھ لکسمبرگ میں ملاقات کی۔ بد ھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق مجموعی طور پر، اس ملاقات نے بیرونی دنیا کو دکھایا کہ چین اور امریکہ رابطے کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہیں، خاص طور پر، چین نے ذمہ دارانہ رویہ اپنایا اور دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے پر عمل درآمد کے لیے محنت جاری رکھی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ چین-امریکہ تعلقات میں پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے نئی خدمات سرانجام دی جائیں گی۔
اس وقت چین امریکہ تعلقات ایک نازک موڑ پر ہیں۔ اس موڑ کی خاصیت یہ ہے کہ فیصلہ سازوں کو نہ صرف یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کہاں جانا ہے، بلکہ عملی اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ درحقیقت اس حوالے سے چین اور امریکہ کے سربراہان مملکت میں اتفاق رائے ہے۔ تاہم چین امریکہ تعلقات کی ترقی چین کی یکطرفہ ذمہ داری نہیں ہے۔ اس وقت چین-امریکہ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ امریکہ، تسلط پسندانہ سوچ کا عادی ہے، وہ دانستہ طور پر چین امریکہ تعلقات کو پٹڑی سے اتار رہا ہے۔
امریکہ کے لیے، چاہے وبا کا بار بار پھیلنا ہو، مہنگائی کا مسلسل بڑھنا ہو، یا ملک میں بڑھتے ہوئے نسلی تنازعات اور سماجی تقسیم ہوں، امریکہ ان تمام امور کو اپنی سفارتی حکمت عملی، خاص طور پر چین کے لیے سفارتی حکمت عملی کے ایک چیلنج کے طور پر پیش کرتا ہے۔تاہم تاریخی تجربات اور موجودہ حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر امریکہ چین جیسا جذبہ رکھتا ہے، چینی رہنماؤں کے پیش کردہ تین اصولوں پر عمل کرتا ہے، اور عملی طور پر چین-امریکہ تعلقات کو مضبوط ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے، تو اس سے نہ صرف فائدہ ہوگا، بلکہ امریکہ کو درپیش موجودہ مسائل سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔