چین علیحدگی اور بالادستی کی بجائےباہمی تعاون پر عمل پیرا ہے، چینی وزیر خا رجہ

نیو یا رک (کنٹری نیوز)چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے عمومی مباحثے میں شرکت کی اور “امن اور ترقی کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرنا اور اتحاد اور ترقی کی ذمہ داری اٹھانا” کے عنوان سے تقریر کی۔اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
انہوں نے کہا کہ چین کا موقف مضبوط اور واضح ہے کہ چین جنگ،غربت، مقابلے، محاذ آرائی،علیحدگی اور بالادستی کے بجائے امن ،ترقی ،کھلے پن،باہمی تعاون ،اتحاد اور مساوات پر عمل پیرا ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور دنیا کے سب سے بڑے ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے چین مضبوطی سے یکجہتی اور تعاون، موجودہ دور کے رجحان اور ممالک کی اکثریت کے مشترکہ مفادات کے ساتھ کھڑا ہے۔ چین ہمیشہ سے عالمی امن کا معمار، عالمی ترقی میں معاون، بین الاقوامی نظم و ضبط کا محافظ، عوام کو آسائش فراہم کرنے والا اور سلگتے ہوئے مسائل کا ثالث رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مختلف چیلنجوں کے پیش نظر چینی صدر شی جن پھنگ نے عالمی ترقی کے اقدام کی تجویز پیش کی، اور عالمی ترقی کی ہم نصِب معاشرے کی تعمیر پر زور دیا۔ صدر شی جن پھنگ نے امن کے مسائل کے حل کے لئے عالمی سلامتی کے اقدام کی تجویز بھی پیش کی ، اور بین الاقوامی سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک چینی منصوبہ تجویز کیاجو کہ ایک دانشمندانہ اقدام ہے ۔
تائیوان کے مسئلے پر وانگ ای نےپر زور انداز میں کر کہا کہ تائیوان زمانہ قدیم سے چین کی سرزمین کا حصہ رہا ہے۔ چین انتہائی خلوص اور بہترین کوششوں کے ساتھ دونوں فریقوں کے پرامن اتحاد کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کی چینی عوام متفقہ طور پر مخالفت کریں گے اور چین کے اتحاد کے عظیم مقصد کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو تاریخ کے پہیے تلے کچل دیا جائے گا۔