چین نے  ہانگ کانگ کی جبری طور پر  علیحدگی کی خفت برداشت کی، چینی صدر

بیجنگ (کنٹری نیوز) چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ چین نے افیون جنگ کے بعد ملکی تاریخ میں ہانگ کانگ کی جبری طور پر  چین سے علیحدگی کی خفت برداشت کی ہے اور چینوں کی جدوجہد کو بھی درج کیا ہے، کوئی بھی ملک یا قوم ہر گز ایسے لوگوں کو حکمرانی کی اجازت نہیں دیتے ، جو غیر محب وطن ہوں یا غدار  ہوں، اتار چڑھاؤ سے گزرنے کے بعد، ہر کوئی محسوس کرتا ہے کہ ہانگ کانگ افراتفری کا شکار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کسی افراتفری کا متحمل ہو سکتا ہے۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق

یکم جولائی کی صبح ہانگ کانگ کی مادر وطن واپسی کی 25ویں سالگرہ اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی چھٹی حکومت کی تقریب حلف برداری ہانگ کانگ کنونشن اور نمائشی مرکز میں شاندار انداز سے منعقد  ہوئی۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے تقریب میں شرکت کی اور اہم خطاب کیا ۔
اپنے خطاب میں شی جن پھنگ نے اس اہم موقع پر ہانگ کانگ کے تمام باشندوں کو اپنی مخلصانہ مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے  واضح کیا  کہ چینی قوم کی 5000 سال سے زائد کی تہذیبی تاریخ لنگنان کی سرزمین پر چینی آباؤ اجداد کی محنت کی گواہ ہے۔ چین نے افیون جنگ کے بعد ملکی تاریخ میں ہانگ کانگ کی جبری طور پر  چین سے علیحدگی کی خفت برداشت کی ہے اور چینوں کی جدوجہد کو بھی درج کیا ہے ۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا  کی قیادت میں چینی عوام کی  ایک صدی  تک جاری رہنے والی جدوجہد ، ہانگ کانگ کے ہم وطنوں کی منفرد اور اہم شراکت کی بھی گواہ ہے ۔ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ  ہانگ کانگ کے ہم وطن ہمیشہ مادر وطن کے ساتھ اپنی پہچان برقرار رکھتے ہیں ۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ ہانگ کانگ کی مادر وطن واپسی سے ہانگ کانگ کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ گزشتہ 25 سالوں کے دوران، مادر وطن کی مکمل حمایت اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے  کی حکومت اور معاشرے کے تمام شعبوں کی مشترکہ کوششوں سے، ہانگ کانگ میں “ایک ملک، دو نظام” کے عمل نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ “ایک ملک، دو نظام” ایک تاریخی نوعیت کی کامیابی ہے ۔ “ایک ملک، دو نظام” کا بنیادی مقصد قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ اور ہانگ کانگ اور مکاؤ کی طویل مدتی خوشحالی اور استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ مرکزی حکومت کے تمام اقدامات ملک  ، ہانگ کانگ اور مکاؤ کی بھلائی اور یہاں کے ہم وطنوں کی فلاح کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ کی مادر وطن واپسی کی 20ویں سالگرہ کے موقع پر میں نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت “ایک ملک، دو نظام” کی پالیسی کے نفاذ میں دو نکات پر عمل پیرا ہے. آج، میں ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ “ایک ملک، دو نظام” کی عملی طور پر بار بار آزمائش کی گئی ہے۔ یہ ملک اور قوم کے بنیادی مفادات کے ساتھ ساتھ ہانگ کانگ اور مکاؤ کے بنیادی مفادات کے عین مطابق ہے۔ اسے عمومی طور پر بین الاقوامی برادری کی سند حاصل ہے۔ لہذا اس قدر احسن اور موئثر  نظام کو تبدیل کرنے کی  کوئی وجہ نہیں، اسے طویل عرصے تک قائم رہنا چاہیے۔
شی جن پھنگ  نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہانگ کانگ مادر وطن  واپسی کے بعد  ملکی گورننس   کے نظام میں دوبارہ ضم ہو چکا ہے  ۔ مرکزی حکومت  کو خصوصی انتظامی علاقے پر جامع گورننس کا حق حاصل ہے،یہ خصوصی انتظامی علاقے کی اعلیٰ خود مختاری کا سرچشمہ ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ  مرکزی حکومت قانون کے مطابق خصوصی انتظامی علاقوں کو حاصل اعلیٰ خود مختاری کا مکمل احترام کرتی ہے اور اس کا تحفظ کرتی ہے ۔صرف اسی صورت میں ہی خصوصی انتظامی علاقوں کے امور کو بہتر طور چلایا جا جا سکتا ہے۔
شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ہانگ کانگ میں حکومت محب وطنوں کے ہاتھوں میں ہی برقرار رہنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک یا قوم ہر گز ایسے لوگوں کو حکمرانی کی اجازت نہیں دیتے ، جو غیر محب وطن ہوں یا غدار  ہوں۔ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی حکمرانی محب وطنوں کے ہاتھوں میں ہی محفوظ رہ سکتی ہے۔ یہ ہانگ کانگ میں طویل المدتی امن و استحکام کی بنیاد ہے ۔ اس حوالے سے شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ ہانگ کانگ کے بنیادی مفادات ملک کے بنیادی مفادات سے وابستہ ہیں۔ مرکزی حکومت کا دل ہانگ کانگ کے ہم وطنوں کے  ساتھ دھڑکتا ہے۔مرکزی حکومت اپنی دیرپا خصوصی حیثیت اور خوبیوں کو برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی، جہاز رانی اور تجارتی مرکز کی حیثیت کو مضبوط بنانے ، آزاد، کھلے اور منظم کاروباری ماحول کو برقرار رکھنے ، مشترکہ قانون کے نظام کو برقرار رکھنے ، اور ہموار اور آسان بین الاقوامی رابطوں کو وسعت دینے میں ہانگ کانگ کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔