چین کا دنیا کے لیے اپنے کھلے پن کی سطح کو بہتر بنانے کا اعلان

بیجنگ (کنٹری نیوز)چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا کو صدی کی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ وبا کا سامنا بھی ہے ، مختلف سیکورٹی چیلنجز یکے بعد دیگرے سامنے آرہے ہیں، عالمی معیشت بحالی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور عالمی ترقی کو شدید دھچکا لگا ہے. بد ھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چینی صدر نے برکس بزنس فورم کی افتتاحی تقریب میں ورچوئل شرکت کی اور اہم خطاب کیا۔ صدر شی کے خطاب کا موضوع رہا “وقت کے رجحان کے ادراک سے مستقبل کو روشن بنائیں” ۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ آج عہد حاضر کا سوال یہی ہے کہ دنیا کہاں جا رہی ہے؟ امن یا جنگ؟ ترقی یا زوال؟ کھلا پن یا بندش؟ تعاون یا تصادم؟ ۔ اگرچہ بین الاقوامی حالات بدل رہے ہیں لیکن کھلے پن اور ترقی کے تاریخی رجحان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کی خواہش ماند پڑے گی۔
شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے تاریخ سے یہ سبق سیکھا ہے کہ امن بنی نوع انسان کی مشترکہ امنگ ہے ۔ مختلف فریقوں کو مل کر امن کا تحفظ کرنا ہے۔امن سے محبت ، امن کا تحفظ اور جنگوں سے سبق سیکھںے کی صورت میں ہی امن برقرار رکھا جائے گا۔ ہنگامہ خیز دنیا کے سامنے ہمیں اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کی روشنی میں امن کے تحفظ کے مشن کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ دو روز بعد چین عالمی ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی “مکالمے”کی میزبانی کرے گا۔ ہمیں عوامی خواہشات کی بنیاد پر دنیا کے مشترکہ مفادات پر قائم رہنا چاہیے، تاکہ عالمی ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے اور تمام ممالک کے لوگوں کو فائدہ پہنچایا جائے ۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ حقائق نے بار ہا ثابت کیا ہے کہ پابندیاں ایک “دو دھاری تلوار”ہیں ۔ عالمی معیشت کو سیاسی آلہ کار اور بطور ہتھیار استعمال کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اپنی غالب حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانی پابندیاں عائد کرنے سے دوسروں کو اور خود کو نقصان پہنچے گا، اور دنیا بھر کے عوام کو بھی نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں اقتصادی عالمگیریت کو مشکلات کا سامنا کرنا ہے۔ بعض ممالک “الگ” ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کو تشویش لاحق ہے کہ عالمی معیشت بٹ جائے گی ۔تاہم اقتصادی عالمگیریت پیداواری قوتوں کی ترقی کے عین مطابق ہے۔ جو دوسروں کی ترقی میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں ، اُن کا اپنا ترقی کا راستہ بھی رک جائے گا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ برکس تعاون میکانزم ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ کاروباری برادری برکس کے عملی تعاون کو فروغ دینے میں ایک نئی قوت ہے۔ اس وقت، برکس تعاون اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تاجر اور صنعت کار استقامت اور بہادری کے جذبے کے ساتھ کھلی ترقی کو آگے بڑھانے ، اختراعی ترقی کے رہنما کردار کو آگے بڑھانے ، اور مشترکہ ترقی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے تاکہ برکس تعاون کو فروغ دیا جائے ۔
شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ ہمیں کھلے پن اور جامعیت پر قائم رہنا چاہیے، پیداواری قوتوں کی ترقی میں رکاوٹ بننے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے، عالمگیریت کی صحت مند ترقی کی رہنمائی اور اسے فروغ دینا چاہیے، سرمائے اور ٹیکنالوجی کے آزادانہ بہاؤ اور جدت اور دانش کو مکمل طور پر ابھرنے کی اجازت دینی چاہیے، اور عالمی اقتصادی ترقی کی ہم آہنگی کو یکجا کرنا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ مل کر کثیر الجہتی تجارتی نظام کو برقرار رکھا جائے، تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی رکاوٹوں کو ختم کیا جائے، اور کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کو فروغ دیا جائے۔ ہمیں وسیع مشاورت، مشترکہ شراکت اور مشترکہ فوائد پر عمل پیرا ہونا چاہیے، عالمی اقتصادی نظم و نسق کو مضبوط بنانا چاہیے، ابھرتی ہوئی منڈیوں والے ممالک اور ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور آواز کو بڑھانا چاہیے، اور تمام ممالک کے لیے مساوی حقوق، قوانین اور مواقع کو یقینی بنانا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے اس جانب اشارہ کیا کہ چین اپنی میکرو پالیسی ایڈجسٹمنٹ کو تیز کرے گا، مزید موثر اقدامات کرے گا، سالانہ اقتصادی اور سماجی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے کوشش کرے گا اور وبا کے اثرات کو کم سے کم کرے گا۔چین بیرونی دنیا کے لیے اپنے کھلے پن کی سطح کو بہتر بناتا رہے گا، اعلیٰ سطح کی کھلی معیشت کا نیا نظام بنائے گا، اور مارکیٹ پر مبنی، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی کاروباری ماحول کی تشکیل جاری رکھے گا۔ ہم چین میں سرمایہ کاری کرنے، اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مضبوط کرنے اور ترقی کے مواقع بانٹنے کے لیے ہر کسی کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں۔