چین کی جانب سےامریکہ سمیت یورپی ممالک میں انسانی حقوق سے متعلق مسائل کی نشاندہی

اقوام متحدہ (کنٹری نیوز)اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس میں تارکین وطن کے حقوق پر خصوصی نمائندے کے ساتھ بات چیت کے دوران چینی نمائندے نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں تارکین وطن کے انسانی حقوق کے حوالے سے مسائل کی نشاندہی کی۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
چین کے نمائندے نے بتایا کہ مارچ 2020 سے لے کر اب تک امریکہ نے کووڈ-۱۹ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صحت عامہ کی صورت حال کی وجہ سے 1.6 ملین سے زائد تارکین وطن کو ملک بدر کیا ، اس بات پر چین کو گہری تشویش ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے تارکین وطن کو خراب حالات میں امیگریشن حراستی مراکز میں بھی رکھا ہے، جہاں تارکین وطن کو تشدد اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکہ اب بھی والدین اور بچوں کی علیحدگی” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے مطابق تارکین وطن کے بچوں کو زبردستی ان کے والدین سے الگ کر دیاجا تا ہے۔اس کے نتیجے میں بہت سے بچے بالاآخر اپنے والدین اور خاندانوں سے الگ ہو جاتے ہیں ۔ چین کو اس بات پر بھی شدید تشویش ہے کہ نیدرلینڈز اور جرمنی سمیت یورپی ممالک نے تارکین وطن کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اور تارکین وطن کے خلاف تشدد کو ہوا دی ہے۔ چین کو اس بات پر تشویش ہے کہ برطانیہ ملک میں داخل ہونے والے غیر ملکی پناہ گزینوں کو تیسرے ملک بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے،جو ملکی انسانی حقوق کی پالیسی کی خلاف ورزی ہے ۔ چین کے نمائندے نے انسانی حقوق کونسل، او ایچ سی ایچ آر اور خصوصی نمائندے سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ بالا مسائل پر مزید توجہ دیں، اور متعلقہ ممالک پر زور دیا کہ وہ تارکین وطن کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کریں۔