چین کے امن دستوں کا عالمی امن و استحکام میں نمایاں کردار

بیجنگ (کنٹری نیوز)چین کی وزارت قومی دفاع کے مطابق گزشتہ 30 سالوں میں چینی فوج نے اقوام متحدہ کے 25 امن مشنز میں حصہ لیا ہے، جس میں تقریباً 50,000 افسران اور فوجی بھیجے گئے ہیں۔ چین نے عملی اقدامات سے عالمی امن کو برقرار رکھا ہے، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں امن دستے بھیجنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق 29 مئی امن دستوں کا 20 واں عالمی دن ہے۔
چین نے اپریل 1990 میں، اقوام متحدہ کی جنگ بندی کے نگران ادارے کے لیے پانچ فوجی مبصرین بھیجے، جس سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں چینی فوج کی شرکت کے شاندار باب کا آغاز ہوا۔ 30 سال سے زائد عرصے میں، چینی فوج کے امن دستوں کی تعداد اورنوعیت ہمہ جہت رہی ہے۔اس میں فوجی مبصرین سے لے کر انجینئرنگ دستوں، طبی دستوں، ٹرانسپورٹ دستوں، ہیلی کاپٹر دستوں، محافظ دستوں، انفنٹری بٹالین ، مبصرین، کنٹریکٹ آفیسرز اور دیگر امن فوج کے پیشہ ور اہلکار شامل رہے ہیں۔ چینی امن دستوں نے کمبوڈیا، کانگو، لائبیریا، سوڈان، لبنان، قبرص، جنوبی سوڈان، مالی اور وسطی افریقہ سمیت 20 سے زائد ممالک اور خطوں میں خدمات سرانجام دی ہیں۔ جس سے مقامی خطوں کی معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا گیا ہے۔اس وقت چینی فوج کے مجموعی طور پر 2,240 افسران اور فوجی اہلکار سات امن مشنز اور اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔