کثیرالجہتی پر عمل کریں اور عالمی تجارت کے لیے نئے اصول بنائیں، چینی ماہرین

بیجنگ (کنٹری نیوز)چائنا سینٹر فار انٹرنیشنل اکنامک ایکسچینج کے زیر اہتمام 7 ویں عالمی تھنک ٹینک سمٹ میں کئی سیمینار منعقد ہوئے۔ “عالمی معیشت کی متوازن بحالی” کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم میں شریک ملکی اور غیر ملکی ماہرین اور اسکالرز کا خیال تھا کہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ عالمی اقتصادی بحالی کی بنیاد کمزور ہے اور ترقیاتی عدم توازن بڑھ رہا ہے، بین الاقوامی برادری کو عالمی معیشت کی متوازن بحالی کو فروغ دینے کے لیے اتفاق رائے کو بڑھانا چاہیے، تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور عملی اقدامات کرنے چاہییں۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
کوریا انسٹی ٹیوٹ فار فارن اکنامک پالیسی کے ڈائریکٹر کم ہیونگ جونگ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ چین کی جدت طرازی کی قیادت میں پیداوری قوت میں خوب اضافہ ہو رہا ہے۔ افراطِ زر کے دور میں، تخلیقی ٹیکنالوجیز کی زیادہ ضرورت ہے، اور بین الاقوامی تعاون اس طرح کی تکنیکی کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ روز ایک سمپوزیم بعنوان ’’عالمی تجارت کے لیے نئے قوانین بنانے کے لیے گفت و شنید کریں‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں ماہرین کا خیال تھا کہ بین الاقوامی تجارت میں نئے حالات کے پیشِ نظر، موجودہ عالمی اقتصادی اور تجارتی ترقی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کے قوانین میں بہتری کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔
چین کی ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے ڈپٹی ڈائریکٹر لونگ گو چھیانگ نے کہا کہ چین کاربن میں کمی اور کم کاربن کی تبدیلی کو مؤثر طریقے سے فروغ دے گا، جو عالمی سبز اور کم کاربن کی تبدیلی کے لیے ایک اہم محرک ہوگا۔ ہم دیکھیں گے کہ سبز ترقی کا تصور بین الاقوامی تجارت پر زیادہ اثرات ڈالے گا۔