ہائی نان اور پاکستان کے درمیان متوقع گہرا دو طرفہ تعاون

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)جب ہائی نان کی بات آتی ہے تو لوگ سمندر کے صاف شفاف پانی، ہلکی سمندری ہوا، سنہرے ریتلے ساحلوں اور سارا سال موسم بہار جیسی آب و ہوا والے علاقے کا تصور کرتے ہیں۔ یہ چھٹیان گزارنے کے لیےایک جنت جیسا مقام ہے۔ پاکستانی طالب علم ذیشان قاسم خان دس سال قبل طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہائی نان آئے تھے، گریجویشن کے بعد انہوں نے ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ کی تعمیر پر توجہ دی اور کاروبار شروع کرنے کے لیے ہائی نان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی بین الاقوامی تجارتی کمپنی قائم کی اور آج ان کی کمپنی کا کاروبار بہت اچھا چل رہا ہے ۔ ان کی رائے میں ہائی نان کی مختلف ترجیحی پالیسیاں نوجوان کاروباری افراد کے لیے بہت پرکشش ہیں۔ یہاں 59 ممالک کے لیے ویزا فری انٹری پالیسی ہے۔ غیر ملکی باشندوں کو ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ میں کاروباری اداروں کے قانونی نمائندوں کا عہدہ سنبھالنے کی اجازت ہے اور چین میں غیر ملکی باشندوں کے لیے ملازمت اور رہائشی امور سے نمٹنے کا پہلا مربوط سرکاری سروس پلیٹ فارم قائم کیا گیا۔ اس کے علاوہ ورک پرمٹ اور ورک ویزا کا حصول بھی بہت ہی زیادہ باسہولت اور آسان ہے۔ یہاں سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کے اعلیٰ ماحول نے پوری دنیا کے قابل لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ ذیشان قاسم خان نے پاکستان اور دیگر ممالک کے بہت سے دوستوں کو ہائی نان میں کاروبار شروع کرنے کے لئے بلایا تاکہ ہائی نان کی ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھاکر اپنی جوان امنگوں اور خوابوں کی تعبیر کی جا سکے۔
ذیشان قاسم خان اور ان کے دوست چین کے سب سے بڑے اسپیشل اکنامک زون اور واحد ٹراپیکل جزیرے والے صوبے ہائی نان کے پاکستان اور دنیا بھر کے ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تبادلوں اور تعاون کی بہترین مثال ہیں۔ حالیہ برسوں میں ہائی نان اور پاکستان کے درمیان علمی ،معاشی ،تجارتی، زرعی اور تعلیمی شعبوں میں تبادلوں اور تعاون نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ان میں سب سے زیادہ قریبی تعاون زراعت کے شعبے میں نظر آتا ہے۔چونکہ دونوں گرم مرطوب آب و ہوا والے خطوں میں واقع ہیں، اس لیے دونوں کے درمیان فصلوں کی انواع میں مماثلت نسبتاً زیادہ ہے۔
ہائی نان زراعت میں بین الاقوامی تعاون کو بھرپور طریقے سے فروغ دیتا رہا ہےاور مسلسل مضبوط ترجیحی پالیسیاں متعارف کراتا چلا آ رہاہے اور یقیناً یہ دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کی بنیاد ہے ۔ دوطرفہ اور کثیر الطرفہ زرعی ٹیکنالوجی کےتعاون کو مضبوط بنانے کے لیے، ہائی نان نے زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اس کےاستعمال کا پائلٹ زون قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہائی نان بیرونی زرعی امداد کو بڑھانے کے لیے مسلسل نئے طریقے تلاش کر رہا ہے اور ترقی پذیر ممالک میں زرعی ترقی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ بین الاقوامی معیار کے زرعی نظام کے قیام اور املاک دانش کے تحفظ پر بھی بے حد زور دیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، ہائی نان نے بین الاقوامی زرعی ہنرمندوں کی تربیت کے لیے سلسلہ وار بین الاقوامی تربیتی پروگرام منعقد کیے ہیں۔ ہائی نان میں زراعت سے وابستہ ادارے اور ہنر مند افراد آزاد تجارتی بندرگاہ کی پالیسی سے پوری طرح مستفید ہو سکتے ہیں۔ اعلیٰ درجے کے بین الاقوامی زرعی ہنر مندوں کے لیے، 15% کی اعلیٰ ترین ذاتی انکم ٹیکس کی پالیسی اور زیادہ آسان ویزا فری انٹری پالیسی نافذ کی گئی، ٹیلنٹ امیگریشن سروس مینجمنٹ سسٹم قائم کیا گیا تاکہ باصلاحیت غیر ملکی افراد کے لئے رہائش اور کام کا اچھا ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ان پالیسیوں نے ہائی نان اور پاکستان کے درمیان متعلقہ زرعی تعاون کے لیے ایک اچھی بنیاد اور حالات فراہم کیے ہیں۔
چین میں واحد بین الاقوامی سیاحتی جزیرے کے طور پر، یقیناً سیاحت ہائی نان کی ترقی کی اولین ترجیح ہے۔ ہائِی نان میں سیاحتی خدمات، کھپت کے ماحول، طبی تحفظ اور دیگر نظاموں کو بین الاقوامی معیار کا بنانے کے لیے ،ہائی نان نے ویزا فری اور ایئر لائن سبسڈی پالیسیز پر عمل درآمد کیا، داخلے کی سہولت کا معیار مزید بہتر کیا اور بین الاقوامی سیاحت کے شعبے میں پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کے لیے اندرون ملک اور بیرون ملک اعلیٰ سطح کے تعلیمی اداروں کو دعوت دی گئی ہے ۔ لہٰذا سیاحت کے حوالے سے ہائی نان اور پاکستان کے درمیان اس ضمن میں تعاون کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان سیاحوں کے تبادلے کے علاوہ، اعلیٰ سطح کی پیشہ ورانہ تربیت، سیاحت سے متعلقہ صنعتوں مثلاً ہوا بازی اور صحت کی سیاحت بھی دو طرفہ تعاون کے نئے اور اہم شعبے بن سکتی ہیں۔
ہائی نان جزیرے کی ترقی پر چینی صدر شی جن پھنگ ہمیشہ سے بڑی توجہ دیتے آئے ہیں۔وہ ہائی نان کی ترقی کا معائنہ کرنے کے لیے کئی بار یہاں کا دورہ کر چکے ہیں۔ایک ہفتہ قبل صدر شی جن پھنگ ایک بار پھر ہائی نان کے دورے پر آئے اور ہائی نان کی ترقی کے لیے مزید تجاویز اور ہدایات پیش کیں۔ ہمیں یقین ہے کہ صوبہ ہائی نان کی اصلاحات اور کھلے پن کو مزید مضبوط کیا جائے گااور پاکستان اور ہائی نان کے درمیان روایتی تعاون زراعت، سیاحت اورتعلیم سے لے کر انٹرنیٹ ، جدید لاجسٹکس، مالیاتی ٹیکنالوجی، طب و صحت اور دیگر شعبوں میں مزید وسیع ہوگا ، جس سے دی بیلٹ اینڈ روڈ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر میں مدد ملے گی اور دونوں ممالک کےچار موسموں کی سٹریٹیجک شراکت داری اور ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے عمل میں نئی جان پڑے گی۔