ہانگ کانگ کے نمائندے نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو ہانگ کانگ کی صورتحال سے آگاہ کیا

ہا نگ کا نگ (ہانگ کانگ)چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کے نمائندوں وو زوئی لونگ اور لیو جونگ ہنگ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس میں تقریر کرکے ہانگ کانگ کی صورتحال کو متعارف کرایا۔اتوار کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ
ہانگ کانگ میں مذہبی شخصیات کے نمائندے پاسٹر وو زوئی لونگ نے کہا کہ گزشتہ 25 سالوں میں “ایک ملک، دو نظام” کی پالیسی نے ہانگ کانگ کے مذہبی اور علمی شعبوں میں آزادی اظہار کی ضمانت دی ہے۔ ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ کے بعد، مذکورہ بالا آزادیوں کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔ ہانگ کانگ حکومت کی حمایت کی بدولت، ہانگ کانگ کا چرچ بڑے پیمانے پر مذہبی سرگرمیاں منعقد کرنے اور مشن اسکول کھولنے کے قابل ہے۔ ہانگ کانگ کی مذہبی شخصیات ہانگ کانگ کی خوشحالی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔
ہانگ کانگ کے نوجوانوں کے نمائندے لیو جونگ ہنگ نے کہا کہ ہانگ کانگ مادر وطن واپسی کی 25ویں سالگرہ منانے والا ہے۔ ہانگ کانگ کا قومی سلامتی کا قانون اور نیا انتخابی نظام ہانگ کانگ کے لوگوں اور کاروباری اداروں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، جس سے ہانگ کانگ افراتفری سے گورننس کی طرف بڑھ سکتا ہے اور خوشحالی اور اچھی حکمرانی کے حصول کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز ہواہے۔ مرکزی حکومت کی حمایت اور مدد سے ہانگ کانگ اور اس کے عوام اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ دنیا میں جمہوریت کا کوئی ایک بھی ماڈل نہیں ہے۔ دنیا کی قدیم ترین جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والے امریکہ نے 40 سال کی بدترین ملکی مہنگائی، بلند قیمتوں اور سکولوں میں بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنانے کے واقعات سے لاپرواہ ہو کر تجارتی جنگیں شروع کر دی ہیں اور بین الاقوامی معیارات کو پامال کیا ہے۔ یہ وہ جمہوریت نہیں ہے جو سب چاہتے ہیں۔