امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 ستمبر کو دعویٰ کیا کہ امریکا نے یمن کے حوثی باغیوں سے بات چیت کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق حوثی باغیوں نے امریکا سے رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے اور نہ ہی چاہتے ہیں کہ امریکا اس تنازع میں شامل ہو۔ تاہم یمن میں حوثی باغیوں نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
11 ستمبر کو یمن میں حوثی باغی آبنائے باب المندب میں واقع جزیرہ پریم پہنچے اور یمن کے جنوب مغربی ساحل کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔
باخبر ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ امریکی ریفائننگ کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے “ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ” کو کس طرح لاگو کیا جائے۔ ریفائننگ کی صلاحیت بڑھانے کی تجویز صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں تقریباً دس سے بارہ امریکی ریفائنری کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے دوران پیش کی تھی۔ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ امریکی صدر کو صنعتی وسائل کو براہِ راست متحرک کرنے اور صنعت کاروں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا اختیار دیتا ہے، جس کا مقصد قومی دفاع کے لیے اہم مواد کی پیداوار کو بڑھانا ہے۔ اس قانون کو ریفائننگ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی تجویز اس سے پہلے کبھی پیش نہیں کی گئی اور اسے آخری حربہ سمجھا جاتا ہے۔ رواں سال اپریل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پر امریکی تیل کی پیداواری صلاحیت کی حمایت اور اضافہ کے لیے اس ایکٹ کی درخواست کی منظوری دی تھی۔



