مقامی وقت کے مطابق 11 ستمبر کو حوثی باغیوں نے اپنی حالیہ فوجی کارروائیوں کے نتائج کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے یمن کے صوبوں تعز اور الحدیدہ کے چھ اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جن کا مجموعی رقبہ تقریباً 5 ہزار 400 مربع کلومیٹر ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی 38 بریگیڈز پر مشتمل سات فوجی فارمیشنز کو نشانہ بنانے اور نو سعودی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سمندری راستوں پر جہاز رانی اب سعودی جہازوں کے سوا تمام ممالک کی کمپنیوں کے بحری جہازوں کے لیے محفوظ ہے۔ حوثی باغیوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یمن میں سعودی فوجی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے “ناکہ بندی کے جواب میں ناکہ بندی” کی حکمت عملی پر عمل درآمد جاری رکھیں گے، جب تک سعودی عرب یمن کے خلاف اپنی “فوجی کارروائیاں” بند اور “ناکہ بندی” ختم نہیں کردیتا۔
دوسری جانب، امریکی ذرائع کے مطابق 10 تاریخ کی شام دو امریکی حکام نے بتایا کہ سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان نے اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور امریکا پر زور دیا کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں پر حملہ کرے، تاہم صدر ٹرمپ نے اس تجویز سے انکار کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق فی الحال امریکی حکومت کا حوثی باغیوں کے خلاف براہِ راست فوجی مداخلت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے باب المندب میں حوثی باغیوں کی جانب سے اسٹریٹجک مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کے باعث آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سمیت توانائی کی ترسیل کے دو اہم سمندری راستوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بعض اداروں نے پیش گوئی کی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آئندہ سال بھی بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔



