وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہےکہ لانگ مارچ کے بعد مذاکرات کرنے ہیں تو پہلےکیوں نہیں کرتے۔
پشاور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سات دن میں وفاقی حکومت مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو افہام و تفہیم سےکرلے، چاہتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو جائے، لانگ مارچ میں تاخیر بھی حکمت عملی کا حصہ ہے، سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ تھوڑا وقت دیا جائے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم نے لانگ مارچ کی کال سے پہلے ہی مذاکرات کا کہا تھا، 4 اکتوبرکو مارچ کا فیصلہ اٹل ہے، مولانا فضل الرحمان ہمارے پاس آجائیں تو انہیں خوش آمدید کہیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے لیے وزارت اعلیٰ کی کرسی سےگیا بھی تو فرق نہیں پڑےگا، مجھے نااہل کیا گیا تو میرا متبادل بانی پی ٹی آئی طےکریں گے۔



