چین پاک فرینڈشپ اسکول گوادر کے لوگوں کے لیے سب سے قیمتی تحائف میں سے ایک ہے: نسیم بلوچ

بلوچستان کے جنوب مغربی ساحل پر واقع ایک چینی تعاون سے قائم اسکول، جو ایک مقامی خاندان کی جانب سے عطیہ کی گئی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے، سینکڑوں بچوں کو رسمی تعلیم حاصل کرنے کا پہلا موقع فراہم کر رہا ہے۔ چین میں تربیت حاصل کرنے والے ایک استاد کے لیے یہ اسکول صرف ملازمت نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔
نسیم بلوچ کے لیے تعلیم وہ روشنی ہے جو زندگیوں کو روشن کرتی اور ذہنوں کو کھولتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم ایک ایسی طاقت ہے جو سرحدوں کے پار لوگوں کو جوڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے فخر ہے کہ میں اس بامقصد سفر کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوں۔
نسیم چین پاکستان گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول فقیر کالونی گوادر میں انگریزی، اردو اور تاریخ کے استاد کے طور پر کام کرتے ہیں اور اسکول کے کوآرڈینیٹر بھی ہیں۔ یہ اسکول، جسے عام طور پر چائنا پاک فرینڈشپ اسکول کہا جاتا ہے، اس وقت کنڈرگارٹن سے لے کر دسویں جماعت تک تقریباً 550 طالبات کو تعلیم فراہم کر رہا ہے، جہاں 22 تدریسی اور غیر تدریسی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے 2019 سے 2021 تک ووہان کی سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے ماسٹرز پروگرام کے نصاب میں تعلیمی انتظام، تقابلی تعلیم، تعلیمی مالیات، تعلیمی پالیسی، تحقیقی طریقہ کار، تاریخ اور معیار کی یقین دہانی جیسے موضوعات شامل تھے۔ نسیم اب اپنی گریجویٹ تعلیم کے دوران حاصل کیے گئے علم کو اسکول میں اپنے کام پر لاگو کرتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی میں معیاری تعلیم کو فروغ دینے، اسکول کے انتظام کو بہتر بنانے اور اپنے طلبہ کو جغرافیائی حدود سے آگے سوچنے کی ترغیب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔
جس اسکول میں نسیم کام کرتے ہیں، اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے والد نے 2015 میں ایک منصوبے کے لیے زمین عطیہ کی تھی، جسے چائنا فاؤنڈیشن فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ نے مالی معاونت فراہم کی۔ ستمبر 2016 میں یہ منصوبہ ایک پرائمری اسکول کے طور پر شروع ہوا، 2017 میں مڈل اسکول بنا اور 2024 میں ہائی اسکول کا درجہ حاصل کیا۔ چینی سفارت خانے نے اساتذہ کی فراہمی اور دیکھ بھال میں مدد کی، جبکہ چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی نے اسکول کے انتظام اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
اسکول میں داخل ہونے والا ہر طالب علم مستقبل کا ایک خواب لے کر آتا ہے اور ہر گریجویٹ ایک زیادہ تعلیم یافتہ، خوشحال اور پُرامن گوادر کی جانب ایک قدم کی نمائندگی کرتا ہے۔ نسیم نے کہا کہ اس اسکول نے سماجی یا معاشی پس منظر سے قطع نظر یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرکے مقامی برادری کو مضبوط کیا ہے۔ یہاں طلبہ کو صرف تعلیمی مضامین ہی نہیں بلکہ احترام، ذمہ داری، تعاون اور معاشرے کی خدمت جیسی اقدار بھی سکھائی جاتی ہیں۔
اس اسکول کے قیام سے پہلے گوادر کے اس علاقے میں کوئی تعلیمی ادارہ موجود نہیں تھا۔ بہت سے بچے، خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کی لڑکیاں، تعلیم سے محروم رہتی تھیں۔ آج معیاری تعلیم ان کی دہلیز پر مفت دستیاب ہے۔ نسیم نے مزید کہاکہ اب ہمارے علاقے کا ہر بچہ معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع رکھتا ہے۔
وہ والدین جو کبھی سمجھتے تھے کہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم دینا مالی طور پر ناممکن ہے، اب اپنی بچیوں کو روزانہ اسکول جاتے دیکھ رہے ہیں۔ نسیم نے کہاکہ میرے کام کے سب سے خوشگوار پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ والدین اپنی شکرگزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ اب ان کے بچے روزانہ اسکول آتے ہیں اور استاد، ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر شعبوں کے ماہر بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔
کئی گریجویٹس نے کالجوں اور جامعات میں اپنی تعلیم جاری رکھی ہے، جو بہت سے خاندانوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی پہلی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک حوصلہ افزا کامیابی کی مثال حلیمہ کی ہے، جس نے اس اسکول سے ابتدائی تعلیم مکمل کی اور اب بلوچستان یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے، جو صوبے کی سب سے قدیم اور بڑی سرکاری جامعہ ہے۔
تعلیمی کامیابیوں کے علاوہ، اسکول میں چینی وفود کے یادگار دورے بھی ہوئے ہیں۔ طلبہ ثقافتی پروگراموں اور شکریے کے الفاظ کے ساتھ ان کا استقبال کرتے ہیں۔ نسیم نے کہاکہ یہ تبادلے کم عمری سے ہی باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے میں مدد دیتے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ یہ بچے بڑے ہو کر بین الاقوامی دوستی اور تعاون کی قدر کو گہرائی سے سمجھیں گے۔
نسیم نے کہاکہ چین پاک فرینڈشپ اسکول گوادر کے لوگوں کے لیے سب سے قیمتی تحائف میں سے ایک ہے۔ تعلیم ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو نسلوں تک زندگیوں کو بدل دیتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ بچہ پورے خاندان کو ترقی دے سکتا ہے، اور ایک تعلیم یافتہ برادری ایک قوم کے روشن مستقبل کی تشکیل کر سکتی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے نسیم ڈیجیٹل تعلیم کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چین نے تعلیمی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اسمارٹ کلاس رومز اور آن لائن تعلیم میں نمایاں ترقی کی ہے۔ ڈیجیٹل لیبارٹریز، اساتذہ کی تربیت کے پروگراموں، ورچوئل کلاس رومز اور چینی پروفیسرز کے آن لائن لیکچرز کے ذریعے اس تجربے کا تبادلہ پاکستان، خصوصاً بلوچستان جیسے دور دراز علاقوں کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے بہت فائدہ مند ہوگا۔
چین میں نسیم کی دلچسپی ان کے تعلیمی سفر سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔ انہوں نے پہلی بار 2016 میں بیرون ملک سفر کے دوران چین کا دورہ کیا، جو ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہامیں چین کی تیز رفتار ترقی، جدید انفراسٹرکچر، صاف ستھرے اور سرسبز شہروں، مؤثر عوامی خدمات اور سب سے بڑھ کر چینی عوام کی مہربانی اور مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوا۔
چین میں تعلیم کے شعبے میں پی ایچ ڈی کرنا نسیم کے اہم ذاتی اور پیشہ ورانہ اہداف میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرا یقین ہے کہ یہ ان محققین کے لیے ایک بہترین ماحول ہے جو تعلیمی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے ذریعے تعلیمی قیادت، معیار میں بہتری اور بین الاقوامی تعاون پر تحقیق کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اختتام پر کہامیرا مقصد صرف ایک اور ڈگری حاصل کرنا نہیںبلکہ عملی تجربہ حاصل کرنا بھی ہے جسے میں واپس پاکستان لا سکوں۔

Top News

Local News

کے پی میں بھی دہشتگردوں کیخلاف بلوچستان کی نوعیت کے آپریشن کی ضرورت ہے: فیصل کریم

پشاور: گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ خیبرپختونخوا میں بھی...

Related Articles

Popular Categories