بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) رواں سال سی پی سی کی قیادت میں دریائے زرد کے تحفظ و انتظام کو 80 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری، چینی صدر اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ نے دریائے زرد کے تحفظ اور انتظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ پارٹی نے عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے دریائے زرد کے انتظام کے گزشتہ 80 سالوں میں بنیادی طور پر “ہر تین سال میں دومرتبہ شگاف پڑنے” کی صورتحال کو تبدیل کیا ہے،جس سے سوشلسٹ نظام کی نمایاں برتریوں کا بھرپور مظاہرہ ہوا ہے ۔
شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کی کفایت شعاری، علاقائی توازن، منظم انتظام اور حکومت و مارکیٹ دونوں قوتوں سے فائدہ اٹھانے پر مبنی پانی کے انتظام کے طریقہ کار پر قائم رہا جائے، دریائے زرد کے طاس میں ماحولیاتی تحفظ اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو حقیقی معنوں میں فروغ دیا جائے، قومی ماحولیاتی تحفظ کے حفاظتی بیریئر کو مضبوط کیا جائے، دریائے زرد کے دیرپا امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے اور دریائے زرد کی تہذیب کی وراثت کو فروغ دیا جائے تاکہ دریائے زرد مزید خوبصورت ہوتا جائے اور نسل در نسل چینی قوم کو فائدہ پہنچاتا رہے۔ صدر کی ان اہم ہدایات نے نئے سفر پر دریائے زرد کے طاس میں ماحولیاتی تحفظ اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے اہم رہنمائی فراہم کی ہے۔
ان ہدایات کا میری ذاتی زندگی سے بھی براہ راست تعلق ہے۔میرا آبائی گھر صوبہ جیانگ سو کے شہر ہوائی آن میں ہے۔ گھر کے قریب ایک دریا ہے جسے “متروک دریائے زرد” پکارا جاتا تھا۔ یہ راستہ اس وقت بنا تھا جب دریائے زرد دریائے ہوائی کو کاٹتے ہوئے سمندر میں جا گرا تھا۔ دریائے زرد کا یہ پرانا راستہ شو چو، سو چھیان، ہوائی آن اور یئن چھنگ سمیت چار شہروں سے ہوتا ہوا جیانگ سو صوبے میں تقریباً پانچ سو کلومیٹر تک گزرتا ہے۔ ماضی میں کنارے پر بنجر گھاس اگی ہوتی تھی اور جگہ بہت ویران تھی۔ آج کنارے پر کئی پارک تعمیر کیے گئے ہیں، لوگ پھولوں کی خوشبو میں چہل قدمی یا ورزش کرتے ہیں اور سفید بگلے پانی کے اوپر اڑتے ہیں۔ لوگوں کی خوشحالی کے لیے بنائی گئی ماحول دوست راہداری میں جدید زراعت، صنعتوں اور منفرد سیاحتی ماحول کے ساتھ دریائے زرد کا پرانا راستہ نئی زندگی پا رہا ہے۔



